menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mere Humsafar, Tujhe Kya Khabar

26 0
15.04.2026

مرے ہم سفر، تجھے کیا خبر

یہ جو وقت ہے کسی دُھوپ چھاؤں کے کھیل سا۔۔

محبت کا آغاز کتنا حسین ہوتا ہے! سرخ پھولوں کا تبادلہ، پہلی گاڑی کی خوشبو، نئے گھر کے نقشے پر انگلی رکھ کر مستقبل کے خواب بننا اور سالگرہ کے ہندسوں کو یاد رکھنے کی وہ معصومانہ ضد۔ میاں بیوی کے درمیان دنیاوی رومانس کی یہ چاشنی زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ چھٹیوں کا پلان بنانا، سمندر کی لہروں پر ساتھ چلنا اور ایک دوسرے کی پسندیدہ خوشبوؤں میں بس جانا ہی تو وہ رنگ ہیں جو ہمارے گھروں کو "گھر" بناتے ہیں۔ ہم ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر خفا ہوتے ہیں، لڑتے ہیں اور پھر انہی کے سہارے مسکراتے ہیں۔ یہ دنیاوی عشق، یہ وسائل اور یہ مستقبل کے حسین خواب انسانی فطرت کا وہ خوبصورت حصہ ہیں جنہیں اسلام نے بھی "سکون" کا نام دیا ہے۔

لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا اور تاریک رخ بھی ہے جو ہمارے معاشرے کے رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہمیں شادی شدہ زندگی میں پانچ، دس، بلکہ تیس تیس سال گزر جاتے ہیں، مگر کئی جوڑے جیون ساتھی کے بجائے ایک ہی بس کے دو مسافروں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک چھت تلے رہتے ضرور ہیں، مگر ایک دوسرے کے لیے "اجنبی" ہوتے ہیں۔ نہ تو وہ اپنے مالی معاملات کی خبر لگنے دیتے ہیں اور نہ ہی کسی معاشی پالیسی یا جائیداد کا ذکر باہم کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کئی جوڑے تا مرگ اپنی اپنی تنخواہ تک ایک دوسرے پر ظاہر نہیں کرتے۔ یہ "راز داری" محبت نہیں، بلکہ عدم اعتماد کی وہ دیوار ہے جو کسی........

© Daily Urdu (Blogs)