Feminism, Kya Waqai Ye Aik CIA Ki Tehreek Hai?
فیمنزم، کیا واقعی یہ ایک CIA کی تحریک ہے؟
ہمیشہ سلطنتوں کی تاریخ، قوموں کے عروج و زوال اور بڑی سماجی و سیاسی تحریکوں کے پیچھے ایک پوشیدہ طاقت ہمیشہ عورت ہی رہی ہے۔ تاریخ کے دھارے کو موڑنے، تخت و تاج کو الٹنے اور نئے نظریاتی انقلابات کو جنم دینے میں اس وجود کا کردار کبھی پسِ پردہ رہا تو کبھی منظرِ عام پر۔ تاریخِ انسانی کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں کوئی بڑی فکری یا سیاسی تبدیلی لانی مقصود ہو، تو عورت کے سماجی مقام اور اس کے نفسیاتی و معاشرتی کردار کو ایک خاص رخ دینا سب سے کارگر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں حقوقِ نسواں (Feminism) کی تحریک کو بھی ایک ایسی ہی طاقتور فکری لہر کے طور پر پیش کیا گیا جس نے معاشروں کی کایا پلٹ دی۔ تاہم، اس مروجہ بیانیے کے پیچھے چھپے کچھ مہیب اور چونکا دینے والے حقائق نے اب فکر و نظر کے نئے زاویے وا کر دیے ہیں۔
اس حساس موضوع پر ایک نئی اور سنسنی خیز بحث امریکی محقق اور مصنفہ ریچل ولسن کی تصنیف "Occult Feminism: The Secret History of Women's Liberation" سے جنم لیتی ہے۔ مصنفہ کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جدید فیمینزم محض ایک مظلوم طبقے کی خودبخود ابھرنے والی خالص عوامی تحریک نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا گہرا اور منظم نظریاتی داؤ تھا جسے مخصوص بین الاقوامی طاقتوں، سرمایہ داروں اور خفیہ اداروں نے اپنے معاشی و سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر پروان چڑھایا۔ اس تحریک کا اصل ہدف وہ روایتی خاندانی ڈھانچہ تھا جو صدیوں سے انسانی معاشرے کے استحکام کا ضامن رہا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے مروجہ دھارے اور سرد جنگ (Cold War) کے دور کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تحریک کس طرح کمیونزم اور سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک سدِ راہ کے طور پر استعمال کی گئی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بڑے فکری بلاکس میں تقسیم........
