menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aaj Shab Meraj Un Nabi e Kareem Hai

38 1
16.01.2026

کائنات کی وسعت کا تصور ہی انسانی عقل کو دنگ کر دینے والا ہے کیونکہ یہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ جسے ہم "مشاہداتی کائنات" کہتے ہیں، اس کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور اس میں اربوں کہکشائیں موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ناقابلِ یقین فاصلوں پر واقع ہیں۔ اس دوری کو ماپنے کے لیے سائنسدان نوری سال کی اکائی استعمال کرتے ہیں جو دراصل وقت نہیں بلکہ فاصلے کا پیمانہ ہے۔ روشنی، جس کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، وہ ایک سال کے عرصے میں جتنا سفر طے کرتی ہے اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے اور یہ فاصلہ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر بنتا ہے۔ اگر ہم لسانی اعتبار سے دیکھیں تو روشنی کو عربی میں "برق" کہا جاتا ہے جس کی جمع "براق" ہے اور اگر ہم فرض کر لیں کہ ہمارے پاس روشنی کی رفتار کو شکست دینے والا کوئی ایسا براق موجود ہو جو روشنی سے بھی پانچ گنا زیادہ تیز سفر کر سکے، تو اس سے کائناتی سفر کے نئے رخ سامنے آ سکتے ہیں۔

ایسی حیرت انگیز رفتار کے باوجود بھی کائنات کے کنارے تک پہنچنا ایک ایسا خواب ہے جو حسابی طور پر ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ زمین سے مشاہداتی کائنات کی سرحد کا فاصلہ تقریباً 46.5 ارب نوری سال ہے اور پانچ گنا تیز رفتار براق کے ذریعے وہاں تک پہنچنے میں بھی ہمیں کم از کم 9.3 ارب سال کا طویل عرصہ درکار ہوگا جو انسانی زندگی اور تہذیب کی کل عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے کیونکہ کائنات ساکن رہنے کے بجائے ایک غبارے کی طرح پھیل رہی ہے اور دور دراز کی کہکشائیں ہم سے روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے دور بھاگ رہی ہیں۔ جب تک آپ کا براق سرحد کی طرف سفر کرے گا، کائنات کا وہ حصہ مزید کھربوں نوری سال دور جا چکا ہوگا، اسی لیے موجودہ سائنسی نظریات کے تحت کائنات سے باہر نکلنا ناممکن ہے کیونکہ اس کے پھیلنے کی شرح آپ کی رفتار سے ہمیشہ سبقت لے جائے گی اور وہ منزل ایک ایسے سراب کی طرح رہے گی جسے کبھی چھوا نہیں جا سکے گا۔

سائنسی اعتبار سے کائنات کی ان وسعتوں کو عبور کرنا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم "ورم ہول" (Wormhole) جیسے نظریات کا سہارا نہ لیں، جو دراصل خلا اور وقت کے درمیان ایک ایسی سرنگ ہے جو کائنات کے دو دور دراز مقامات کو آپس میں جوڑ کر طویل ترین فاصلوں کو لمحوں میں سمیٹ سکتی ہے۔ اسی طرح "وائٹ ہول" (White Hole) کا تصور ہے، جو بلیک ہول کا بالکل الٹ ہے، جہاں سے مادہ اور روشنی صرف باہر نکل سکتے ہیں، جسے بعض ماہرین دوسری کائناتوں سے رابطے کا ذریعہ بھی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگر ان پیچیدہ سائنسی مفروضوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے، تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام واقعات فی الحال انسانی ذہن اور مادی علم کو شکست دے رہے ہیں، لہٰذا ہم انہیں ایک "معجزہ" مان کر ہی ان کی اصل روح تک پہنچ سکتے ہیں جہاں........

© Daily Urdu (Blogs)