Jab Khwab Mehanga Par Jaye
جب خواب مہنگا پڑ جائے
جون کا مہینہ تھا، موسم بہت سہانا تھا۔ دل میں بے چینی سی تھی اور ایک خواہش بھی۔ خواہش یہ تھی کہ تیرے نام بال بنواٶں، تنگ اور چست سفید کپڑوں پر سبز واسکٹ سجاٶں، کالی عینک لگاٶں، کلائی میں الفجر گھڑی باندھوں اور چمک دار کلاسیک جوتے پہن کر کوئٹہ میں اپنے دوست نایاب کے ساتھ دو دن خوب سیر سپاٹے کروں اور اس منحوس بوریت کا جنازہ نکالوں۔
میں رات کو پلنگ پر دراز ہو کر اپنے دو دن کی سیر و سیاحت کا نقشہ کچھ یوں کھینچ لیا۔ پہلے دن عصر کو جناح ٹاٶن میں فٹ بال کھیلیں گے اور رات کو سمسور ہوٹل کے کھلے میدان میں پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ دیکھیں گے۔
دوسرے دن دوپہر کا کھانا ساتھ لے کر بولان تنگی پر جائیں گے۔ وہاں بہتے ٹھنڈے پانی میں ننگے پاٶں مسکرائیں گے چلنا اور جی بھر کے نہائیں گے۔ وٹ فن اٹ وڈ بی ٹو وزٹ ٹو بولان!
خوشی کے مارے میری نیند اڑ کر صبح ہوئی۔
میں نے دوپہر کو رخت سفر باندھا۔ وین میں سوار ہوکر خانوزئی اور کچلاک سے ہوتا ہوا ٹھیک شام کے 5: 00 بجے کوئٹہ شہر کے قریب جبل نور پر اترا۔ میں نے اپنے لمبے بالوں، کالی عینک، چمک دار جوتوں، سفید کپڑوں اور سبز واسکٹ کی نوک پلک درست کرکے اسفنی روڈ پر لوکل بس کی راہ تکتا رہا تھا۔ جہاں میں بس کا منتظر تھا، وہاں آدمی پر آدمی اتر تے رہے تھے۔ خیر، پانچ منٹ کے بعد لوکل بس نے "تر لر ڑت، فف فاف" جیسے تیز ہارن بجاتے ہوئے آ پہنچی۔ چلتے چلتے بس سے دو سواری اترے، لگ بھگ بیس سوار ی چڑھ گئے۔ ان سواریوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ دیکھتا ہوں کہ بس میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ منشی نے........
