menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muhammad Bin Qasim Ya Raja Dahir: Hero Kon?

32 0
08.05.2026

محمد بن قاسم یا راجا داہر: ہیرو کون؟

پچھلے کچھ دنوں سے محمد بن قاسم اور راجا داہر کے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اک طبقہ ہے جس کا ماننا ہے کہ محمد بن قاسم بیرونی حملہ آور تھا اور اس کے آنے سے قبل اسلام ہندوستان میں پہنچ چکا تھا۔ جبکہ ہمارا مطالعہ پاکستان کہتا ہے کہ محمد بن قاسم 712ء میں اک مظلوم لڑکی کی فریاد پہ اس راجا داہر جیسے ڈاکو سے چھڑانے سندھ میں وارد ہوئے۔ ان کی عمر تب سترہ سال تھی وہ ہندوستان میں اسلام لائے۔

کچھ لوگ گڑے مردے اکھاڑے جانے پہ شکوہ کناں ہیں کہ یہ لاحاصل بحث ہے جس کا کوئی فائیدہ نہیں۔

بیسویں صدی کے آخر میں پوسٹ ماڈرن سچائی بدل چکی ہے آج کالونیلزم سے لے کر امپیرئلزم تک سب تعریفیں تبدیل ہو چکی ہیں؟ سیگمنڈ فرائیڈ کا قول ہے کہ اگر ہم اپنا مستقبل بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا ماضی بدلنا ہوگا۔

یعنی ماضی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ماضی تبدیل کیے بغیر مستقبل بدلنے کا کوئی چارہ نہیں۔ آپ اسے اس مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی بچپن میں ہراسانی کا واقعہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی شخصیت اس کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے وہ اکیلے گھبراتا ہے تو جب تک وہ نفسیاتی علاج نہیں کرائے گا تو اس کی شخصیت یونہی ادھوری رہے گی اور سائیکاٹرسٹ تب تک اس کا علاج نہیں کر سکے گا جب تک وہ شخص اپنے بچپن کا وہ واقعہ بتا نہیں دیتا۔ اس عمل کو سائکو اینلاسز کہتے ہیں۔ یعنی جب تک آپ زخم تک نہیں پہنچیں گے تب تک اس کا علاج ممکن نہیں۔ سوشل سائنس یہ کہتی ہے کہ سائیکو اینلاسز صرف فرد واحد کا نہیں بلکہ اقوام کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے قصہ گو اور شاعر یہی کام کر رہے ہیں ہر آدمی کو ان کے بیان کردہ دکھ میں اپنا دکھ نظر آتا ہے اور دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک ہم اپنے ماضی کا سائیکو اینلاسز نہیں کریں گے جب تک اسے پوسٹ ماڈرن ٹرتھ کی کسوٹی پہ نہیں پرکھیں گے اور مستقبل بدلنا ممکن نہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنا ماضی اپنا سچ اپنی تاریخ اور اپنا نصاب کچھ حدود کی قیود میں بنانا چاہتے ہیں۔ ہیر رانجھا ہماری اک لوکل داستان ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی آپ بیتی میں لکھا کہ وہ تو اک پاکباز عورت تھی اسے وارث شاہ نے بدکردار بنا دیا۔ یعنی قدرت اللہ شہاب جو قیام پاکستان کے بعد کے مورخین کا سرخیل سمجھا جاتا ہے وہ اک منظوم کردار کو بھی........

© Daily Urdu (Blogs)