menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naya Misaq e Jamhuriat He Wahid Rasta Hai

19 11
25.01.2026

1985 سے 1988 تک محمد خان جونیجو پاکستان کے وزیراعظم رہے جبکہ میاں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلٰی تھے، یہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کا آخری مرحلہ تھا جہاں غیر جماعتی انتخابات کے بعد جونیجو صاحب نے اقتدار سنبھالا اور کچھ آزادانہ فیصلے کیے جس سے ضیاء الحق اور جونیجو کے مابین دوریاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں۔ 1988 کے اوجڑی کیمپ دھماکے پر فوجی قیادت کی انکوائری کے مطالبے پر ضیاء سے جونیجو کا اختلاف شدت کرگیا اور 29 مئی کو آرٹیکل 58(2b) کے تحت اسمبلی توڑ کر جونیجو کو برطرف کر دیا گیا۔

نواز شریف اس وقت ضیاء کے قریبی اتحادی تھے اور بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے قومی سطح پر ابھرے، پنجاب میں پیپلزپارٹی کا زور توڑنے کے لیے مختلف بنیادوں پر ووٹرز کو تقسیم کیا گیا اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو زیادہ تر استعمال کیا گیا۔ یہ دور پاکستانی سیاست میں ادارہ جاتی کشمکش اور جمہوریت کی طرف واپسی کی جدوجہد کی علامت بنا رہا۔ 1990 میں میاں نواز اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سلسلہ 1993 تک چلا، وزیراعظم میاں نواز شریف کے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کرگئے جس پر 18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے اسی 58 (2b) کا استعمال کرتے ہوئے نواز کو بھی گھر بھیج دیا۔ دوبارہ الیکشن ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔

تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی وہی ہوا جو نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا اور صدر فاروق........

© Daily Urdu (Blogs)