Apne Huqooq Aur Faraiz Pehchaniye
اپنے حقوق اور اپنے فرائض پہچانیے
یوں تو میں نے ایک پنجاب میں پیدا ہونے والی کشمیری خاتون ہونے کے ناطے یہاں اپنے اطراف میں بہت سارے ایسے رسم و رواج دیکھے جو ہمارے گھرانوں میں آج بھی مروج نہیں ہیں۔ لیکن ان میں سے دو ایسی رسمیں ہیں جن سے ایک عورت ہونے کے ناطے میں ہمیشہ ہی الجھن میں مبتلا رہی۔ اس لئے نہیں کہ یہ ہمارے یہاں مستعمل نہیں ہیں بلکہ اس لئے کہ میں ان کی منطق کبھی سمجھ ہی نہیں پائی۔ پہلی تو ہر خاتون کا ہر ڈیلیوری کیلئے اپنے والدین کے گھر چلے آنا۔ یہ میرے لئے ایک بالکل ناقابلِ فہم عمل ہے اور اس عمل کا سب سے غلط پہلو یہ ہے کہ وہاں حمل کے دوران بیٹی کی خوراک اور علاج پہ اٹھنے والے اخراجات سے لے کے ڈیلیوری تک کے سب مراحل لڑکی کے والدین کے ذمے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ عورت کی زندگی کا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے جس میں بیٹی شاید اپنوں میں سکون محسوس کرتی ہوگی لیکن فیس........
