Nai Nasal Ke Samajhdar Bache
نئی نسل کے سمجھ دار بچے
آج کے دور کے بچے اور ہمارا بچپن ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہمیں تو امی کی ایک سخت نظر ہی کافی ہوتی تھی کہ فوراً سمجھ جائیں معاملہ سنجیدہ ہے، اب بس خاموشی اختیار کر لینی ہے یا وہاں سے ہٹ جانا ہے۔ امی نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا، مگر ان کی نگاہوں میں وہ اثر تھا جو ہمیں نظم و ضبط سکھاتا تھا۔ اگر انہوں نے کوئی کام کہا تو "جی امی" کے علاوہ کوئی دوسرا جملہ زبان پر نہیں آتا تھا، "نہیں ہوگا" یا "میرا دل نہیں ہے" جیسے جملے ہمارے تصور میں بھی نہیں تھے۔
اب کے بچے اپنی بات کھل کر کہتے ہیں۔ اگر ان کا موڈ ہو تو کام کریں گے، نہ ہو تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اظہار میں مضبوط ہیں، جبکہ ہم جذبات کو اندر ہی اندر سہنے والے تھے۔ اگر امی ناراض ہوتیں تو چپ چاپ روتے تھے، وہ بھی چھپ کر۔ میری بیٹی بریرہ جب دیکھتی ہے میں ناراض ہوں تو کہتی ہے: "ماما، آپ ناراض ہوں تو مجھے لگتا ہے دنیا ختم ہوگئی ہے۔ میرے دل اور سینے میں کچھ ہونے لگتا ہے، جیسے کچھ ویووز ہوں اور مجھے رونا آنے لگتا ہے" اور پھر جب وہ شام کو جب میں آفس سے گھر آتی ہوں مجھ سے ملتی ہے تو کہتی ہے: "میں آپ کے ساتھ جینا اور مرنا چاہتی ہوں"۔
پریشان ہو تو کہتی میرے سٹمک میں کچھ گہرا سا عجیب سا ہو رہا ہے۔ میرا دل بند ہو رہا ہے۔ جیسے وہ چل ہی نہیں رہا۔
اتنا اظہار........
