menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Fitna e Jahalat Aur Taasub

32 0
26.02.2026

فتنۂ جہالت اور تعصب‎

معاشرہ اس وقت ایک عجیب فکری کشمکش سے گزر رہا ہے۔ بظاہر ہم جدید دور کے باشعور شہری ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں ہمارا اجتماعی شعور ابھی بھی جذباتی ہیجان، مسلکی تعصب اور فکری افراط و تفریط کی آندھیوں میں ڈگمگا رہا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو خود کو لبرل کہتا ہے اور جس کی روشن خیالی اکثر مذہب سے بیزاری تک جا پہنچتی ہے اور دوسری طرف وہ عناصر ہیں جو مذہب کے نام پر تعصب، تکفیر اور نفرت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ دونوں انتہائیں اپنی اپنی جگہ ایک ایسی کشمکش کو جنم دے رہی ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان معاشرتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا ہو رہا ہے۔

پاکستان میں جو مخصوص طرز کا لبرل بیانیہ سامنے آیا ہے، وہ اکثر دین کو سماجی پسماندگی کی جڑ قرار دیتا ہے۔ گویا اگر مذہبی شناخت کمزور ہو جائے تو معاشرہ خود بخود ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔ مگر یہ مفروضہ نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ سماجی طور پر قابلِ قبول۔ مسئلہ دین نہیں، مسئلہ دین کی غلط تعبیر اور غلط استعمال ہے۔ دین تو عدل، رحمت، حکمت اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ اگر انہی اصولوں کو بنیاد بنایا جائے تو معاشرہ اعتدال اور توازن کا حسین نمونہ بن سکتا ہے۔ لیکن جب دین کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے یا پھر اسے صرف شناختی ہتھیار بنا........

© Daily Urdu (Blogs)