Difai Muahide Se Islami Ittehad Tak
دفاعی معاہدے سے اسلامی اتحاد تک
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کی پیش رفت نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا اسلامی دنیا اپنے دفاع، معیشت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے واقعی ایک مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دے سکتی ہے؟ یہ سوال آج اس لیے بھی اہم ہے کہ مسلم دنیا قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، جغرافیائی اہمیت اور فوجی صلاحیت کے باوجود عالمی سیاست میں وہ اجتماعی اثر و رسوخ نہیں رکھتی جس کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔
تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اسے ایک وسیع تر اسلامی تعاون کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے؟
اسلامی دنیا نے ماضی میں اتحاد کے کئی خواب دیکھے۔ مختلف ادوار میں مسلم سلطنتوں نے اپنی سیاسی اور عسکری طاقت کے ذریعے ایک وسیع خطے کو متحد رکھا۔ لیکن وقت کے ساتھ سیاسی اختلافات، داخلی کمزوریاں اور باہمی مفادات غالب آتے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی انسانی اور جغرافیائی قوت رکھنے والی امت چھوٹی چھوٹی سیاسی ترجیحات میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔
آج مسئلہ صرف دفاع کا نہیں۔ اگر ایک مسلم ملک کے پاس تیل ہے، دوسرے کے پاس گیس، کسی کے پاس معدنیات، کسی کے پاس بڑی فوج، کسی کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور کسی کے پاس نوجوان افرادی قوت، تو سوال یہ ہے کہ یہ سب........
