Mehanga Petrol, Khamosh Awam, Befiker Hukumat
مہنگا پٹرول، خاموش عوام، بے فکر حکومت
ایک وقت تھا جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی پاکستان کی سب سے بڑی خبر بن جایا کرتا تھا۔ اخبارات کی شہ سرخیوں میں "عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا" اور "مہنگائی کا نیا طوفان" جیسے الفاظ نمایاں ہوتے تھے۔ قیمتوں میں اضافے کی خبریں لیڈ اور سپر لیڈ اسٹوریز بنتی تھیں، ٹی وی چینلز پر طویل بحثیں ہوتیں اور عام آدمی اپنے گھریلو بجٹ کا ماتم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کسک میں مبتلا رہتا تھا کہ اب جینا کیسے ہوگا۔ گلی محلوں سے لے کر چائے خانوں تک ہر زبان پر یہی بحث ہوتی تھی کہ حکومت نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
لیکن آج منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اب خبر آتی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ چند لمحے سوشل میڈیا پر کچھ روایتی تبصرے ہوتے ہیں، چند احتجاجی پوسٹس گردش کرتی ہیں اور پھر زندگی ویسی ہی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ نہ پہلے جیسی حیرت باقی رہی ہے، نہ پہلے جیسی بے چینی اور نہ ہی سڑکوں پر وہ عوامی ردعمل نظر آتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا پاکستانی معاشرہ اچانک خوش حال ہوگیا ہے یا مسلسل اور لایعنی مہنگائی نے عوام کو اس قدر تھکا دیا ہے کہ اب ہر نئے اضافے پر حیران ہونے یا احتجاج کرنے کی سکت بھی باقی نہیں رہی؟ یہ سوال آج کے پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا اور تکلیف دہ المیہ ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف ذاتی گاڑیوں، کاروں یا موٹر سائیکلوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس........
