menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasat Ki University, Molana Fazal Ur Rehman

31 0
18.04.2026

سیاست کی یونیورسٹی، مولانا فضل الرحمٰن

​پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق جب بھی پلٹے جائیں گے، ان میں ایک ایسی شخصیت کا نام بار بار ابھرے گا جس نے سیاست کو محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک شطرنج کی بساط سمجھ کر کھیلا۔ وہ شخصیت، جسے دوست سیاست کا امام اور مخالفین مصلحت کا پیکر، کہتے ہیں، یعنی مولانا فضل الرحمان۔ ان کا سیاسی اور تاریخی کردار محض ایک جماعت کی قیادت تک محدود نہیں، بلکہ وہ پاکستانی سیاست کے اس توازن، کا نام ہے جس کے بغیر وفاق کی مالا بکھرتی محسوس ہوتی ہے۔

​مولانا فضل الرحمان کی حالیہ سیاست کا ایک اہم ترین رخ عوام کی معاشی حالت زار سے جڑا ہے۔ جب ملک مہنگائی کے طوفان کی زد میں ہے اور عام آدمی کی کمر ٹوٹ رہی ہے، تو ایسے میں مولانا نے اسے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بنا دیا۔ انہوں نے گزشتہ دن صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں جلسہ عام منعقد کرکے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا اور یہ ثابت کیا کہ ان کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں۔ ان کا یہ مؤقف کہ "عوام کا معاشی قتل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا"، نہ صرف اپوزیشن کی آواز بنا........

© Daily Urdu (Blogs)