menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pani Jaisa Banne Ka Hunar

15 1
17.01.2026

پانی جیسے بنو، یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اتنا ہی گہرا اور بامعنی ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر انسان کی بقا تک، پانی ایک بنیادی حقیقت ہے۔ قرآنِ مجید میں صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، انسان کے جسم میں بھی پانی غالب عنصر ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم پانی کو صرف پینے کی حد تک تو یاد رکھتے ہیں، اس سے سیکھنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔ بروس لی نے کہا تھا کہ انسان کو پانی جیسا ہونا چاہیے۔ یہ کوئی فلسفیانہ نعرہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نسخہ ہے، بس شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھ اور سیکھنے والا دل ہو۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نصیحت ہمیشہ اس وقت مانگتے ہیں جب حالات ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سیکھنے والا انسان دیوار پر لکھی ہوئی بات سے بھی سبق لے لیتا ہے اور جو نہ سیکھنا چاہے، اس کے سامنے اگر سمندر بھی رکھ دیا جائے تو وہ پیاسا ہی رہتا ہے۔ پانی کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک ہے۔ آپ اسے جس برتن میں ڈالیں، وہ اسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہ شکوہ، نہ ضد، نہ انا۔ بس حالات کو قبول کرتا ہے اور اپنی اصل برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمارے نوجوان سب سے زیادہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔

آج کا نوجوان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا اس کی سہولت کے مطابق چلے گی۔ نوکری ایسی ہو جو دل کو بھی بھائے، تنخواہ بھی زیادہ ہو، باس بھی پسند کا ہو، کام بھی کم ہو اور عزت بھی بے حساب ملے۔ اگر ایسا نہ ہو تو فوراً جملہ آتا ہے: "یہ میری کمفرٹ زون نہیں ہے"۔ حالانکہ زندگی کا سادہ اصول ہے کہ کمفرٹ زون میں رہ کر صرف آرام ملتا........

© Daily Urdu (Blogs)