menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Matti Baghawat Karti Hai

8 0
latest

جب زنجیروں کی جھنکار دل کی دھڑکنوں سے تیز ہو جائے اور حاکم کی ہنسی غریب کے بچے کی سسکی پر بھاری پڑ جائے، تو لفظ موم نہیں رہتے۔ وہ لوہا بن جاتے ہیں۔ ہم کس زندگی کی بات کرتے ہیں؟ کیا صرف سانس لینے کا نام زندگی ہے؟ بیل بھی سانس لیتا ہے، کتا بھی حاکم کی ڈیوڑھی پر پڑا ہڈیاں چباتا ہوا سانس لیتا ہے۔ اگر زندگی صرف گوشت کے لوتھڑے کو حرکت دینے کا نام ہے، تو اس قید خانے میں ہم سب زندہ ہیں۔ جب آپ سے آپ کے بنیادی انسانی حقوق چھین لیے جائیں، تو آپ انسان نہیں رہتے، آپ صرف اقتدار کی چکی کا وہ ابلا ہوا اناج بن جاتے ہیں جسے وہ جب چاہیں پیس لیں۔

آج جینے کا حق ایک ایسا سکہ بنا دیا گیا ہے جو صرف امراء کی جیبوں میں کھنکتا ہے۔ غریب کے لیے زندگی صرف ایک طویل، لامتناہی تھکن ہے جو صبح کی پہلی کرن سے شروع ہوتی ہے اور رات کے اندھیرے میں بھوک کی شکل میں بستر پر پھیل جاتی ہے۔ جب نظام آپ کو اس حد تک گرا دے کہ آپ کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے حاکم کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے، تو وہ معاشرہ ایک اجتماعی قبرستان بن جاتا ہے۔ جہاں قبریں بولتی نہیں ہیں، صرف خاموشی سے سڑتی ہیں۔

قدغنیں جب حد سے بڑھ جائیں، تو وہ صرف زبان کو نہیں کچلتیں، وہ روح کے اندر کے انسان کو قتل کر دیتی ہیں۔ آج آزادیِ اظہار........

© Daily Urdu (Blogs)