menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pinky Ka Karachi

21 0
17.05.2026

کراچی کی عدالت کی راہداری میں ایک لڑکی چل رہی تھی۔ سیاہ عینک، چہرے پر کالا ماسک، اسکائی بلیو ہاف بازو شرٹ، ڈھیلا ٹراؤزر، ہاتھ میں پانی کی بوتل اور اس کے پیچھے مرد اور خاتون پولیس اہلکار چل رہے تھے۔

عام طور پر عدالتوں میں پیش ہونے والے ملزمان کے چہرے جھکے ہوتے ہیں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوتی ہیں، پولیس اہلکار بازو پکڑ کر لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن یہاں منظر مختلف تھا۔ وہ لڑکی پُراعتماد انداز میں ایسے چل رہی تھی جیسے کسی عدالت میں پیشی کے لیے نہیں بلکہ کسی سرکاری دورے پر آئی ہو۔ اس کے قدموں میں گھبراہٹ نہیں تھی، چہرے پر خوف نہیں تھا اور رفتار میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔

پھر یہی ویڈیو دیکھتے دیکھتے پورے پاکستان میں وائرل ہوگئی۔ ٹی وی چینلز، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، ہر جگہ ایک ہی ویڈیو چل رہی تھی۔ معاملہ صرف پاکستانی میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی میڈیا میں بھی اس کا ذکر ہونے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ آخر ایک ڈرگ ڈیلر اتنے اعتماد کے ساتھ عدالت میں کیسے داخل ہو رہی ہے؟

اور پھر کراچی نے ایک نام سنا، انمول پنکی۔

کہتے ہیں جرائم کی دنیا میں اصل طاقت صرف پیسہ نہیں ہوتا، اصل طاقت "اثر" ہوتا ہے اور اثر بندوق سے کم، تعلقات سے زیادہ بنتا ہے۔ پنکی کی مبینہ لیک ہونے والی آڈیوز نے اسی "اثر" کی ایک جھلک دکھائی۔

ایک آڈیو میں وہ مبینہ طور پر کہتی سنائی دی: "ہم نے پورے کراچی میں اندھیر ڈالا ہوا ہے، روک سکو تو روک لو"۔

اور پھر وہ ایک اور جملہ بولتی ہے جو شاید اس پورے کیس کا سب سے خطرناک حصہ ہے: "تمہارے لوگ پانچ سال، سات سال میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں، پھر ریٹائر ہو کر مجھے کال کرتے ہیں کہ یار میں نے بہت کوشش کی لیکن تمہیں پکڑ نہیں سکا"۔

یہ جملہ صرف ایک شخص کی شیخی نہیں، یہ پورے سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ اگر واقعی کوئی خاتون اس اعتماد سے یہ بات کر رہی ہے تو پھر اس کے پیچھے صرف ایک فرد نہیں ہو سکتا۔ وہاں کہیں نہ کہیں تعلقات، روابط، خاموش........

© Daily Urdu (Blogs)