Reham Ki Maut: Aik Sawal Jis Ka Jawab Kisi Ke Pas Nahi
رحم کی موت: ایک سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
بارسلونا میں اس ہفتے ایک پچیس سالہ لڑکی مٹی کے حوالے کر دی گئی۔ اس کا نام نولیا کستیو تھا۔ ریڑھ کی ہڈی کے ایک سنگین زخم نے اس کی زندگی کو ایسی اذیت میں بدل دیا تھا جس میں دن اور رات، نیند اور جاگ، امید اور تھکن سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے تھے۔ اس نے عدالت سے درخواست کی کہ اسے وہ حق دیا جائے جسے اسپین کی زبان میں رحم کی موت کہا جاتا ہے۔ باپ نے مخالفت کی۔ مخالفت بھی عام نہیں تھی۔ عیسائی وکلا اس کے ساتھ تھے۔ پانچ عدالتوں نے، پھر یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی، اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ مگر باپ لڑتا رہا۔ یہ قانونی جنگ چھ سو ایک دن چلتی رہی۔ آخرکار اس کی رحم کی موت کی درخواست پر عملدرامد ہوا اور ہسپتال کے عملے نے اس کی خودکشی میں طبی معاونت فراہم کی۔ اس کے آخری الفاظ تھے، میں اب مزید نہیں چل سکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ یہاں ظالم کون تھا؟ بیٹی جو مرنا چاہتی تھی؟ باپ جو اسے زندہ رکھنا چاہتا تھا؟ عدالت جو قانون کے مطابق فیصلہ دے رہی تھی؟ یا وہ طب........
