menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

La Hasil Se Hasil Tak

32 0
12.04.2026

کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کو یوں دیکھتا ہے جیسے رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں کی روشنیاں دیکھ کر گھر لوٹتی ہوئی وہ بچی، جس کے ہاتھ میں ایک سادہ سا جوڑا ہو مگر دل اُن کپڑوں میں اٹکا رہ جائے جو شیشوں کے پیچھے ٹنگے تھے۔ اُس کے پاس بھی کچھ ہے، مگر نظر اُس پر نہیں جاتی۔ نظر اُس پر جاتی ہے جو نہیں ملا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں دل میں خلا پیدا ہوتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ خلا حقیقت سے زیادہ تصور کا پیدا کیا ہوا ہوتا ہے۔

اس کتاب کا حاصل بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انسان دو طریقوں سے اپنی زندگی ناپتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے سامنے ایک خیالی کمال رکھ لیتا ہے، ایک ایسی چوٹی جو ہر قدم کے بعد اور........

© Daily Urdu (Blogs)