Ilm Ki Aag
گاؤں کی وہ لائبریری اب شاید نقشے میں بھی پوری طرح موجود نہ ہو، مگر میری یاد میں وہ آج بھی اسی طرح آباد ہے جیسے جاڑے کی رات میں کسی دور کچے گھر کی روشن کھڑکی۔ باہر نیم کا درخت تھا، اس کی شاخوں پر شام اترتی تو یوں لگتا جیسے پرندوں نے اندھیرے کو چونچوں میں بھر کر وہاں رکھ دیا ہو۔ اندر مٹی، کاغذ، دیمک مار دوا، چمڑے اور وقت کی ملی جلی خوشبو تھی۔ الماریوں میں رکھی کتابیں کسی لشکر کی مانند صف بستہ نہ تھیں، وہ بزرگوں کی طرح بیٹھی تھیں، کسی کی جلد پھٹی ہوئی، کسی کے اوراق زرد، کسی کے کناروں پر کسی گم نام طالب علم کی پنسل کی لکیر۔ اس خاموش کمرے کے بیچ ایک بڈھا جلد ساز بیٹھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دھند تھی مگر ہاتھوں میں ایسی روشنی کہ پھٹی ہوئی کتاب اس کے سامنے آکر اپنا وقار واپس پا لیتی۔
اس کے ہاتھ عجیب تھے۔ انگلیوں کے پوروں پر گوند کی باریک تہہ جمی رہتی، ناخنوں کے کناروں میں وقت کا زرد رنگ اتر آیا تھا، ہتھیلیوں پر چھری، سوئی، دھاگے اور کاغذ کے لمس نے ایسی لکیریں کھینچ دی تھیں جیسے کسی پرانے نقشے پر دریا خشک ہو کر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ کتاب کی ریڑھ کی ہڈی سیدھی کرتے ہوئے ایسے جھکتا تھا جیسے کسی بیمار بچے کی سانس سن رہا ہو۔ کبھی غالب کا دیوان اس کے سامنے کھلا ہوتا، کبھی تاریخ کی وہ دبیز جلد جس پر پچھلے پچاس برس کے طالب علموں کی انگلیوں کی گرد جمی تھی، کبھی اقبال کی نظموں کا بوسیدہ نسخہ۔ وہ ہر کتاب کو اس کے مزاج کے مطابق چھوتا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ کون سا ورق ذرا سی سختی سے رنجیدہ ہو جائے گا۔
ایک شام وہاں ایک نوجوان آیا۔ کپڑے نفیس، جوتے چمکتے ہوئے، بالوں میں شہر کی تیزی، آنکھوں میں وہ بے چینی جو آج کل ہر دوسرے چہرے پر دیکھی جا........
