menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Masoom Kaliyon Ki Pukar, Riyasat Ki Khamoshi

24 0
14.07.2026

معصوم کلیوں کی پکار، ریاست کی خاموشی

کہتے ہیں جب زمین پر ظلم حد سے بڑھ جائے تو آسمان بھی لرز اٹھتا ہے، فضائیں ماتم کناں ہوجاتی ہیں اور فطرت انسان کے جرائم پر نوحہ کرتی ہے۔ مگر افسوس! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ظلم، درندگی، قتل، زنا بالجبر اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے ایسے ہولناک واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں کہ شاید آسمان بھی ہمارے اجتماعی زوال کا عادی ہوچکا ہے۔ خون بہتا ہے، معصومیت لٹتی ہے، عزتیں پامال ہوتی ہیں، لاشیں اٹھتی ہیں، مگر چند دن کے شور کے بعد سب کچھ پھر معمول پر آجاتا ہے۔

یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں نہ چھ سال کی بچی محفوظ ہے، نہ سات سال کا بچہ، نہ جوان پردہ دار عورت محفوظ ہے اور نہ ضعیف خاتون۔ نہ رشتے دار محفوظ ہیں اور نہ محلے دار۔ یہ کیسی ریاست ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہیں، مساجد اور مدارس میں داخل کرتے ہوئے پریشان ہیں اور گلی میں کھیلنے کے لیے بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ظلم اس قدر بے لگام ہوچکا ہے کہ نہ گھر محفوظ ہیں، نہ بازار، نہ تعلیمی ادارے اور نہ ہی وہ مقامات جنہیں روحانی سکون اور دینی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

کراچی میں کمسن بچے کے ساتھ پیش آنے والی درندگی ہو، سرگودھا کی سات سالہ معصوم بچی کا المیہ ہو،........

© Daily Urdu (Blogs)