menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sindh Tas Ki Fatah

20 0
19.05.2026

سندھ طاس معاہدہ برصغیر کی تاریخ میں محض ایک آبی سمجھوتہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے سیاسی توازن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی عملی معنویت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس معاہدے کے کسی پہلو پر اختلاف جنم لیتا ہے تو اس کی بازگشت صرف اسلام آباد اور نئی دہلی تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی سفارتی و قانونی حلقے بھی اس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے پاکستان کے حق میں دیا جانے والا حالیہ فیصلہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف ایک تکنیکی آبی تنازع کے حل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی معاہدات کی تعبیر، ریاستی ذمہ داریوں اور آبی خودمختاری کے اصولوں کو بھی نئی معنویت عطا کی ہے۔

اس مقدمے کا بنیادی نکتہ بظاہر پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے حساب کتاب سے متعلق تھا، مگر درحقیقت اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر تعمیر ہونے والے منصوبوں کے ڈیزائن میں ایسی تکنیکی تشریحات اختیار کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ معاہدے میں دی گئی اجازت سے کہیں زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی عملی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ نئی دہلی اس اضافی گنجائش کو اپنی توانائی ضروریات اور متوقع بجلی طلب کی بنیاد........

© Daily Urdu (Blogs)