Israel Mein Mayoosi Ke Lehr
اسرائیل میں مایوسی کی لہر
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی (Hebrew University) اور آگام انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ سروے نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ 17 سے 20 جون 2026 کے درمیان 3,644 اسرائیلی شہریوں پر کیے گئے اس سروے کے نتائج نہ صرف اسرائیلی قیادت کے لیے ایک زبردست دھچکا ہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ذہنی کیفیت بھی ظاہر کرتے ہیں جو اپنی فوجی طاقت پر نازاں تھا مگر آج اپنی ہی حکمت عملی پر سوال اٹھا رہا ہے۔
سروے کے مطابق 92.1 فیصد اسرائیلی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران اس تنازع میں فاتح رہا یا اسے اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل ہوئے۔ یہ تعداد اتنی حیران کن ہے کہ اسے محض اپوزیشن کے جذبات سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ووٹرز میں بھی 93.1 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ایران جنگ جیت گیا۔ یہ وہی ووٹرز ہیں جنہیں حکومت اپنا "کور ووٹ بینک" سمجھتی ہے اور وہ بھی اب حکومتی بیانیے سے مکمل طور پر بیزار نظر آتے ہیں۔
اسی سروے میں 82.9 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اس جنگ اور اس کے نتائج نے اسرائیل کی طویل مدتی سیکیورٹی کو شدید کمزور کیا ہے۔ 86 فیصد نے جنگ........
