menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mareez e Adab: Profesor Saeed Hassan Qadri

17 0
previous day

مریض ادب: پروفیسر سعید حسن قادری

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ایک انسان کی تشکیل میں کون کون سے عناصر یکجا ہو کر اسے ایک مخصوص شخصیت میں ڈھالتے ہیں۔ مٹی، خطه، جغرافیه یا معاشرہ اس میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ اجداد سے منتقل ہونے والے ڈی این اے کی اس میں کیا حیثیت ہے۔ ماحول اور دوستوں کی صحبت اس صورت میں فرد پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔

کچھ احباب کے بارے میں سوچتے ہوئے میں اکثر ان الجھے ہوئے سوالوں میں گھر جاتا ہوں۔ اس وقت بھی میں جن کے بارے میں لکھ رہا ہوں وہ مجھے اکثر ایسی ہی الجھن میں ڈالتے رہتے ہیں۔ ایک علمی شخصیت کے صاحبزادے، والد اردو زبان و ادب کے استاد، محقق، پروفیسر ڈاکٹر ایوب قادری۔ ستر اور اسی کی دہائی کی ادبی و جامعیاتی زند گی گزارنے والے انہیں بہت اچھی طرح سے جانتے اور ان کی عزت کرتے ہیں۔ مگر پروفیسر سعید حسن قادری کا حلقہ احباب بہت محدود ہے۔ میں انہیں 1993 سے جانتا ہوں۔ ایم اے اردو میں داخلے کے بعد اردو آرٹس کالج میں وہ میرا پہلا دن تھا جب میں دو خاتون استانده کے ادب پڑھانے کے انداز سے نالاں ہو چکا تھا۔ کلاس میں ایک خاتون لیکچرار ہاتھ میں ایک رجسٹر لئے داخل ہوئیں۔

طالب علموں نے اپنی کاپیاں، رجسٹر کھول لئے۔ انہوں نے ایک مضمون کی املا کروانا شروع کردی۔ میں نے بھی فورا" ڈائری کھول کر ان کے فرمودات لکھنا شروع کر دئیے۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے الجھن شروع ہوگئی کہ میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں۔ یہ جو کچھ لکھوا رہی ہیں، یہ تو میں خود بھی جانتا ہوں۔ طوعا" کراہا" وہ سب کچھ ڈالا۔ خاتون اس کارگزاری کے بعد کلاس سے چلی گئیں۔ اگلے پیریڈ میں ایک اور خاتون لیکچرار نے یہی عمل دہرایا اور اب میں مکمل طور پر بور ہوچکا تھا اور یہ سوچنے لگا تھا کہ، کیا اب اردو زبان و ادب اس طرح پڑھایا جاتا ہے۔ فسانہ عجائب، رانی کیتکی کی کہانی یا فورڈ ولیم کالج پر پُرانے لکھے ہوئے مضامین کو کاپیوں میں اتروا دیا اور بس۔ ادب پڑھانے والے کا اپنا علم کہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں انہیں کبھی بھی اساتذہ کی فہرست میں شمار ہی نہیں کرتا۔ برسوں بعد ان میں سے ایک خاتون سے میری ملاقات ہوئی تو وہ قریب کھڑے ایک صاحب سے کہنے لگیں کہ بھئی یہ افسانہ نگار امین الدین ہیں، میرے شاگرد رہے ہیں۔ میری یہ حالت کہ ہم چپ رہے ہم ہنس........

© Daily Urdu (Blogs)