Upar Wali Manzil
رفاقت حیات کے افسانوں کا نیا مجموعہ "اوپر والی منزل" مجھے تین روز پہلے ملا جسے میں نے آج مکمل کیا ہے۔ ان کہانیوں کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ کچھ کہانیوں میں مکمل ناول بننے کا پورا پوٹینشل موجود ہے۔ مثال کے طور پر اس مجموعے کی پہلی افسانہ "رات" افسانے سے کہیں زیادہ ناول کا باب لگتا ہے اور اس میں جو ہماری گڈز سروس ہے اس سے جڑے تمام کردار اور ان کی کہانیاں مل کر ایک پورے ناول کا موضوع بنتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اب تک میں نے اس موضوع پر کوئی ناول تو کیا کہانی بھی نہیں پڑھی ہے۔ یہ کہانی غیر متوقع طور پر اچانک ختم ہو جاتی ہے اور میرے جیسا قاری فوری بول پڑتا ہے، یہ کیا ہوا؟ جہاں پر افسانے کا اختتام ہوتا ہے وہ اختتام شاید کسی بھی پڑھنے والے کے لیے متوقع انجام نہ بنے۔
"وڈیرہ" کہانی ایسا لگتا ہے جیسے اس کا پہلا ڈرافٹ ہی فائنل ڈرافٹ بنا دیا گیا ہو۔ کہانی ریلوے اسٹیشن کے پل سے لیکر رنگو کے ساتھ اس کے گھر پہنچنے کے تک ہموار طریقے سے چلتی ہے اور وڈیرے کے کھانا کھا کر سو جانے تک ٹیمپو بہت شاندار........
