menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Piron Ki Hukumat

25 0
02.06.2026

کبھی کبھی آدمی اپنے ہی سر سے تنگ آجاتا ہے۔ سر، جو خیالات کی بلند عمارتیں بناتا ہے، نظریات کی چھتوں پر چڑھ جاتا ہے، اخلاقیات کے قمقمے روشن کرتا ہے، مگر پھر اچانک نظر نیچے پڑتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور کے پاؤں ابھی تک کیچڑ کی بلدیاتی حدود میں رجسٹرڈ ہیں۔ میں نے ایک روز خود سے پوچھا کہ کہیں میں بھی تو وہی ادھورا آدمی نہیں بن گیا جس کا سر آسمان پر اور پاؤں روزگار کے گٹر میں ہوتے ہیں؟

آج ایک دوست کا فون آیا۔ پہلے تو حسبِ دستور میری تحریروں پر پھول برسائے۔ کہنے لگے، "بھئی، آج کل تم پر تخلیق کی دیوی خاص مہربان ہے۔ قلم توڑ لکھ رہے ہو"۔

میں دل ہی دل میں اس دیوی کا شکریہ ادا کرنے ہی والا تھا کہ اگلا سوال آگیا:

"سناو، نوکری ملی کوئی؟"

یہ سوال ہمارے ہاں ویسا ہی ہے جیسے جنازے میں کوئی پوچھ لے، "کھانا کس وقت لگے گا؟"

میں کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر کہا، "ایک جگہ انٹرویو ہے، دیکھتے ہیں"۔

فرمایا، "یار تھوڑا کمپرومائز کرو۔ اپنے سماجی روابط استعمال کرو۔ صفِ دوستاں پر ہاتھ ہولا رکھو۔ کام بن جائے گا"۔

میں نے کہا، "حضرت، ابھی تو آپ فرما رہے تھے کہ مجھ پر تخلیق کی دیوی مہربان ہے، اب کہہ رہے ہیں ہاتھ ہولا رکھو۔ یہ دیوی اور یہ رعایت ایک ہی وقت میں کیسے نبھیں گی؟"

وہ ہنس دیے، جیسے میں نے کوئی ادبی لطیفہ سنا دیا........

© Daily Urdu (Blogs)