Wo Novel Jo Main Parhna Chahoon Ga
وہ ناول جو میں پڑھنا چاہوں گا
گزشتہ سال میں نے ایک ناول پڑھا جس میں مجھے اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی جھلک نظر آئی۔ میں، میری بیوی، بیٹی اور بیٹا آٹھ سال پہلے پاکستان سے امریکا منتقل ہوئے اور ہم چاروں پر اس ہجرت کے اثرات مختلف ہیں۔ اس ناول میں ہمارے جیسا چار افراد کا کنبہ ایران سے جرمنی منتقل ہوتا ہے اور ویسی ہی کشمکش سے گزرتا ہے۔ ناول کے چار باب ہیں اور چاروں الگ کرداروں نے بیان کیے ہیں۔
پہلا باب بہزاد کا ہے جو انقلاب ایران کے موقع پر ایک سوشلسٹ ایکٹوسٹ تھا جو مذہبی قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے خوابوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتا ہے۔ دوسرا باب اس کی بیوی ناہید نے سنایا ہے جو 1989 میں جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی شروع ہونے کے بعد کا حال سناتی ہے۔ محفوظ زندگی اچھی ہے لیکن وطن کی یاد ستاتی ہے۔ تیسرا حصہ ان کی بیٹی لالہ کا ہے جو جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1999 میں ایران کا دورہ کرتی ہے۔ وہ شناختی بحران کا شکار ہے۔ چوتھا باب اس کے بھائی مو نے بیان کیا ہے جو جرمنی میں رہتے ہوئے 2009 میں ایران کی گرین موومنٹ کے بارے میں جانتا ہے اور اس سے اپنا جذباتی تعلق محسوس کرتا ہے۔
ادیب وہی لکھتا ہے جو اس پر گزرتی ہے۔ وہ اپنے تجربات کو فکشن کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ ناول شیدا بازیار نے لکھا ہے جو ایرانی جرمن ہیں۔ یہ ناول انھوں نے جرمن زبان ہی میں لکھا ہے لیکن اس کا........
