menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ilm Ul Kalam, Aqal e Saleem Aur Falsafiyana Aqal

11 34
31.01.2026

میں نے گزشتہ دنوں میں جناب ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی دو تحریریں شیئر کی تھیں۔ ایک میں انھوں نے سلف صالحین کے ہاں ظاہر ہونے والی علم الکلام کی مذمت کو موضوع بنایا ہے جبکہ دوسری میں انھوں نے علم الکلام کے ارتقا پر گفتگو کی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ عرصے سے جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل کی سرگروہی میں کلام بریگیڈ چونکہ خاصا فعال ہے، اس لیے اس طرح کے مواقف کا سامنے آنا بھی ناگزیر تھا جن میں علم الکلام کی کلاسیکل اور عصری دونوں ضرورتوں کا سرے سے ہی انکار کر دیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ مسلم معاشرے کی علمی اور تہذیبی صورت حال اس طرح کی نہیں ہے کہ ان دونوں مواقف میں سے کسی کا انتخاب کیا جا سکے کیونکہ دونوں ہی انسانی علوم کی موجودہ صورت حال اور ہمیں درپیش تحدیوں کا کوئی ادراک نہیں رکھتے۔ ان دونوں مواقف میں جو مشترک مسئلہ ہے وہ جب تک طے نہیں ہوگا اس وقت تک کوئی بنیادی علمی گفتگو بھی ممکن نہیں۔

جہاں تک سلف صالحین کی طرف سے علم الکلام کی مذمت کا تعلق ہے، تو میں اس مذمت کو درست اور صائب سمجھتا ہوں۔ لیکن اسے صرف "علم الکلام" کی مذمت کہنا درست نہیں۔ یہ دراصل عقلی اور نظری علوم کی مذمت تھی۔ اسلام کی تعلیمات اور مراد و مزاج میں ایسا کوئی نقص و احتیاج نہیں ہے جس کو اڈریس کرنے کے لیے عقلی یا نظری علوم یا "متبادل علوم" کو کام میں لایا جا سکے۔ اسلام مکمل ہدایت ہے اور انسانی عقل جو اقتضآت اور احتیاجات رکھتی ہے ان کے لیے کافی و وافی ہے اور اساسات کردار و عمل کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ میں یہ عرض نہیں کر رہا کہ اسلام فلسفیانہ اور نظری عقل کے پیدا کردہ سوالوں کا جواب دیتا ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ اسلام پر ایمان و عمل کے بعد "مسلم" عقل کے لیے وہ فلسفیانہ اور نظری سوالات ہی ناقابل فہم (unintelligible) ہو جاتے ہیں، تو ان کا سامنا کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسلام جس طرح کے انسانی ذہن اور مزاج کی تشکیل کرتا ہے اس میں اقتضا اور احتیاج کے ہر پہلو سے فسلفیانہ، نظری اور سائنسی علوم غیر ضروری ہیں۔ ہمارے سلف صالحین شعور میں عقلِ سلیم اور کردار میں تقویٰ کے حامل تھے۔ جس طرح سے تقویٰ ایک خاص طرح کا کردار ہے اسی طرح عقلِ سلیم ایک خاص طرح کا ذہن ہے۔ یہ کوئی فطری انسانی ملکات نہیں ہیں بلکہ امتثالِ امر کے حاصلات ہیں اور انھی فطری ملکات کی ایک نئی اور ارادی تشکیل ہیں۔ ہمارے متاخرین کے ہاں بھی عقلی اور نظری علوم کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے ریاضی میں مشغولیت کی وجہ سے اپنے ایک مرید کی سخت سرزنش کی تھی........

© Daily Urdu (Blogs)