menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Madad Kijiye Ta Ke Aap Ki Madad Ho

27 0
05.04.2026

مدد کیجئے تاکہ آپ کی مدد ہو

کل سہ پہر گھر سے بچوں اور انکی ماما کے ساتھ حویلی کے لیے بائیک پر نکلے۔ حویلی گاؤں میں ہی گھر سے چار سو میٹر دور ہے۔ راستے میں ہی پلان بنا کہ ہیڈ ساگر چلتے ہیں۔ موسم کتنا پیارا ہے ٹھنڈی ہوا کو انجوائے کرتے ہیں وہاں سے پکوڑے کھائیں گے۔ ہیڈ ساگر میرے گھر سے بس سات آٹھ کلومیٹر دور ہے۔ آدھے راستے میں پہنچے تو ایک دم زبردست قسم کی بارش شروع ہوگئی۔ آس پاس کوئی جگہ نہیں تھی جہاں رک جاتے۔ سڑک کنارے لگی ایک ٹاہلی کے نیچے رک گئے۔

مگر بارش بھی ایسی زور کی شروع ہوئی کہ رہے رب کا نام۔ ہوا بھی تیز تھی تو بارش ہمیں تھوڑا بہت بھگو رہی تھی۔ بچوں کو ہم نے اسی طرح سمیٹا ہوا تھا جیسے مرغی اپنے چوزوں کو پروں تلے چھپا لیتی ہے۔ قریب سے ایک بڑا ٹرک گزرا اور تین چار سو میٹر دور جاکر رک گیا۔ سڑک چھوٹی تھی ٹرن نہیں کر سکتا تھا تو اس نے چاروں انڈیکیٹر آن کیے اور ریورس گئیر لگا کر واپس آنے لگا۔ چند منٹ میں ہمارے بلکل قریب آکر رکا اور ڈرائیور بارش میں بھیگتا نیچے اتر کر ہمارے پاس آیا۔

سلام دعا کے بعد اس نے بتایا کہ وہ شہر حافظ آباد سے یہاں قریب ہی ایک مقام پر کوڑا کرکٹ پھینکنے آتا ہے۔ سرکاری کانٹریکٹ کی گاڑی ہے۔ بچے بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ آپ بچوں کو میرے ساتھ بٹھا دیں تھوڑا آگے ساگر کلاں گاؤں ہے۔ وہاں تک ساتھ ساتھ بائیک پر آپ لوگ آجائیں۔ میں بچے لے جاتا ہوں۔ بھیگ رہے ہیں۔ بارش ابھی رکتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کہا........

© Daily Urdu (Blogs)