Patri Se Utarti Rail Gariyan
پٹری سے اترتی ریل گاڑیاں
گزشتہ روز مختلف مقامات اور مختلف ٹرینوں کئی ریلوئے انجن کے فیل ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ گذشتہ کے حادثے اور بارش کی وجہ سے بہت سی ٹرینیں آج بھی اپنے مطلوبہ مقام سے روانہ نہیں ہو پائیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ریلوئے کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ یہ وہ ادارہ تھا جسکی کارکردگی کی مثال دی جاتی تھی اس ادارئے سے وابستگی کو فخر کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ کسی ٹرین میں سفر کرنا ہی نہیں بلکہ اسے چلتے ہوئے دیکھنا بھی خوشی اور مسرت کی وجہ بن جاتی تھی۔
آج اگر ریلوئے حادثات کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے۔ اس سال جولائی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف چھ ماہ میں ریلوئے کے پینتیس حادثات ہوچکے تھے۔ جن کی بڑی وجوہات پرانی ریلوئے لائنیں، فرسودہ انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی بتائی گئی۔ جبکہ گزشتہ سال 2025ء کو پہلے ہی پاکستان ریلوےکے لیے حالیہ برسوں کا سب سے زیادہ حادثات والا سال قرار دیا گیا جس میں پٹری سے اترنے، ٹرینوں کے تصادم، تحریب کاری اور دیگر واقعات شامل تھے۔
ایک جانب تو بلھے شاہ جیسی نئی ٹرینوں کا افتتاح ہوتا دکھائی دئے رہا ہے تو دوسری جانب حادثات کی باعث ریلوے کے مسافر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اس بے یقینی کی صورتحال میں مسافروں کا رش مہنگے کرایے والی بسوں اور ویگنوں کی جانب مبذول ہو رہا ہے۔ ملک میں موٹر وے سے بھی زیادہ اس بنے بنائے ریلوے........
