Digital Election Aur Siasat
ڈیجیٹل الیکشن اور سیاست
بہاولپور کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی گہماگہمی اس وقت عروج پر ہے۔ ان انتخابات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس انتخاب کا میدان صرف جلسہ، جلوس، کارنرمیٹنگ اور انتخابی نشان ہی نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا بھی انتخابی میدان بن چکا ہے۔ اس سے قبل بھی گذشتہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کو ووٹر تک پہنچنے اور انہیں متحرک کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو نمائیاں طور پر استعمال کیا تھا مگر اس مرتبہ لگتا یہ ہے کہ الیکشن اب پولنگ اسٹیشن سے زیادہ سوشل میڈیا کی اسکرین پر بھی لڑے جائیں گے۔ بیلٹ باکس سے پہلے فیس بک باکس بھرنے لگے ہیں اور اب امیدوار کو گلی گلی ہی نہیں بلکہ اسکرین اسکرین تک پہنچنا پڑے گا۔
پہلے امیدوار ووٹر کے گھر پہنچتا تھا اب اس کی پوسٹ پہنچتی ہے، پہلے نعرہ جلسے میں لگتا تھا اب ٹرینڈ بنتا ہے، پہلے مخالف کو جواب تقریر یا پریس کانفرنس میں دیا جاتا تھا اب چند سکینڈ کی وڈیو آپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل کا ووٹر امیدوار کو دیکھ کر ووٹ دے گا یا اس کے سوشل میڈیا اکاونٹ کو دیکھ کر فیصلہ کرئے گا؟ میرا خیال ہے کہ دونوں کو دیکھے گا مگر اب اس کا تناسب بدل رہاہے۔
آج سوشل میڈیا کی بدولت سیاسی شعور اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ کوئی نئی خبر چند سکینڈ میں ہی ہر آدمی کی اسکرین تک پہنچ جاتی ہے۔ الیکشن چیمبر آف کامرس کا ہو یا جم خانہ بہاول کلب کا ہوِ یا پھر بار کا ہوِ اور یاپھر سیاسی میدان ہو، بہاولپور ہمیشہ سے اخلاقی شائستگی اور ایک دوسرئے کے احترام کی روایات کے لیے مشہور رہا ہے اس لیے سوشل میڈیا مہم بھی اسی........
