menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Aik Punjabi Baap Bete Ko Yar Kehta Hai

12 0
yesterday

جب ایک پنجابی باپ بیٹے کو "یار" کہتا ہے

ان کے نمکیں اور ہلکے گرم آنسو کسی ٹوٹی تسبی سے گرتے ہوئے دانوں کی طرح گرتے جا رہے تھے۔ کوئی نیم گرم آنسو میرے گالوں سے لگتا تو موم بتی سے گرنے والے قطرے کی طرح فوراََ ٹھنڈا پڑ جاتا۔

انہوں نے مجھے اپنی بازوں میں یوں لے رکھا تھا، جیسے سخت گرمی میں شمال سے آنے والی ٹھنڈی ہوا آپ کو چاروں طرف سے اپنے بازوں میں گھیر لیتی ہے اور آپ دونوں بازو کھول کر اپنے آپ کو اس ہوا کے سپرد کر دیتے ہیں۔

مجھے اس دن احساس ہوا کہ والد کی محبت چُھپی محبت ہوتی ہے۔ والدہ تو محبت کا اظہار کرتی رہتی ہے لیکن والد محبت بھی کرتا ہے تو پتہ نہیں چلتا، یا شاید ایسا صرف پنجاب کے نیم پڑھے لکھے گھرانوں میں ہوتا ہو۔

امی کہتی ہیں کہ بچوں کو گود میں اٹھانا اور انہیں لاڈ پیار کرنے کا رجحان اب زیادہ ہوا ہے۔ پہلے پنجاب کے دیہات میں ایسا نہیں ہوتا تھا، بچوں کو گود میں اٹھانا اور انہیں پیار صرف خواتین ہی کیا کرتی تھیں۔ کسی مرد کے لیے یہ ایسے ہی ایک طعنہ سمجھا جاتا تھا جیسے عورت گھر پر ہو اور مرد خود کپڑے دھو رہا ہو یا کوئی اپنی بیوی کی ٹانگیں دبا رہا ہو۔

تقسیم سے پہلے تایا جی پھمہ سراء میں سکھوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کیا کرتے تھے، ابو جی بھی سکھوں کے بچوں کے ساتھ کھیلے تھے۔ چند برس پہلے تک ہمارے گھر کا ماحول بھی روایتی پنجابی تھا۔ نانا جی، ابو جی اور تائی جی سبھی تہہ بندھ باندھتے تھے۔ بچوں کو سنبھالنا صرف امی جی کی ذمہ داری تھی۔ نانا جی حقے کے تو بے حد شوقین تھے۔

تمباکو خاص طور پر اپنے آبائی گاوں ٹھٹہ قلندر شاہ سے منگواتے تھے لیکن سگریٹ اور چائے انہیں سخت نا پسند تھے۔

وہ ان دونوں چیزوں کو انگریزوں کی سازش سمجھتے تھے۔ نانا جی اکثر بتایا کرتے تھے کہ انگریزوں نے کس طرح چائے اور سگریٹوں کی عادت ڈالی۔

وی سی آر اس زمانے میں ایک لگژری آئٹم تھی۔ سینما صرف بڑے شہروں میں ہوا کرتے تھے لیکن دیہات میں جب میلے ٹھیلے لگتے تو کچی ٹاکی، بھی لگتی۔ کچی ٹاکی کو آج کا پروجیکٹر ہی سمجھ لیجیے۔ دو بانسوں کو زمین پر گاڑ کر درمیان میں سفید کپڑا لگا دیا جاتا۔ بجلی کی سہولت صرف شہروں تک محدود تھی لیکن ٹریکٹر کے انجن کی مدد سے پروجیکٹر چلایا جاتا اور فلم سفید اسکرین پر شروع ہو جاتی۔ بچپن میں سلطان راہی اور انجمن کی تو ایک آدھ فلم میں نےبھی کچی ٹاکی پر ہی دیکھی تھی۔ یہ چلتے پھرتے سینما گھر ہوتے تھے۔

لوگ فلم دیکھنے کی خاطر بیس بیس میل پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ نانا جی کے بقول انگریز ان میلوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں مفت چائے کی پتی اور سیگریٹ پھینکا کرتے تھے۔ لیکن ابو نے گوجرانوالہ آنا جانا شروع کیا تو حقہ پینا بند کر دیا لیکن شلوار پہننا ان کو آخری سانس تک نہ بھایا۔ پگ اور تہمد پر وہ کسی صورت کمپرومائز کرنے کو تیار نہ تھے۔

شام کو گھر آنے کے بعد وہ ہمیشہ صحن میں بکائن اور نیم کے درخت کے ساتھ رکھی چار پائی پر بیٹھ جاتے اور امی جی کچے صحن مغربی نکڑ پر لگے تندور میں روٹیاں لگانا شروع کر دیتی۔ میں اکثر و بیشتر چار پائی پر لیٹا بکائن پر چہکتی چڑیوں کو دیکھتا رہتا اور ابو جی کے گھر آنے کے بعد انہیں دبانا شروع کر دیتا۔

ان کا انداز ہمیشہ ایک سا ہوتا تھا۔ وہ ایک دم دروازے سے اندر نہیں آتے تھے بلکہ گھر کے اندر آنے سے پہلے تھوڑا سا کھانستے تھے۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی باجیاں یا گھر میں موجود محلے کی خواتین فوری طور پر اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیتیں۔

وہ گھر آنے کے بعد سب سے پہلے نلکا چلاتے ہوئے وضو کرتے یا ہاتھ پاؤں دھونا شروع کر دیتے۔ ایک تولیہ بھی رکھا ہوتا تھا لیکن وہ چہرہ ہمیشہ اپنے کندھے پر رکھے ہوئے کپڑے (صافے) سے صاف کرتے۔

ان کو ہر روز دبانے کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ وہ مجھے انعام کے طور پر اٹھنی یا چوانی دے دیتے تھے اور ساتھ میں ہلکی سی ایک مسکراہٹ اضافی ملتی تھی۔ یہ مسکراہٹ میرے ساتھ محبت کی ان کی سب سے بڑی ظاہری نشانی تھی۔ کبھی کبھار مسکراتے ہوئے یہ بھی کہہ دیتے، "تم ایسے دباتے ہو، جیسے کوئی چٹکیاں کاٹتا ہے"۔

خاندان میں کئی لوگ وفات پائے۔ دادا، دادی، تائی جی اور ابو کے کئی قریبی دوست بھی اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ابو جی ہمیشہ پنجابی ہی بنے رہے۔ میں نے اونچے لمبے قد کاٹھ والے اور جی دار قسم کے انسان تایا شریف سمیت سبھی لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ابو جی کی آنکھ سے کبھی بھی ایک قطرہ ٹپکتے نہ دیکھا۔ شاید وجہ ان کی روایتی پنجابی تربیت تھی کہ "مرد" روتا نہیں ہے یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ میری فرمائشیں بھی سب سے زیادہ پوری ہوئیں۔ بیس سال کی عمر میں، میں نے تو خود کو بڑا سمجھنا شروع کر دیا تھا لیکن میں ابو جی کی نظر میں چھوٹا ہی تھا۔

جرمنی آنے سے پہلے ابو جی نے مجھے دیر تک گلے لگائے رکھا اور بار بار یہی کہتے جاتے کہ پتہ نہیں تم نے اب کب واپس آنا ہے، پتہ نہیں کب ملاقات ہونی ہے۔ گاؤں یا مضافات سے جو بھی یورپ آیا تھا تو اس کی واپسی کئی کئی برسوں بعد ہی ہوئی تھی۔ کوئی دس سال بعد واپس آیا اور کوئی پندرہ سال بعد بھی واپس نہ آ سکا۔ ابو جی کے ذہن میں بھی یہی تھا کہ میں پتہ نہیں کب واپس لوٹوں گا۔

میری جرمنی رخصتی سے پہلے ان کی آنکھیں تو نم تھیں لیکن کوئی آنسو تب بھی نہیں ٹپکا تھا۔ ہاں امی نے ایک دن یہ ضرور بتایا کہ تمہارے ابو تمہارے جانے کے بعد گھر آ کر چار پائی پر بیٹھے نہیں تھے بلکہ گر پڑے تھے۔

جرمنی آنے کے پانچ ہی ماہ بعد میری پولش نژاد جرمن ٹیچر کو شک پڑا کہ میں بہت اداس رہنے لگ گیا ہوں۔ اس نے پروٹیسٹنٹ لینگوئج اسکول کے پادری ڈائریکٹر سے بات کی اور اس نے ایک ہفتے بعد مجھے ٹکٹ دیتے ہوئے کہا کہ تمہیں اپنے والدین سے مل آنا چاہیے ورنہ تم پڑھ نہیں سکو گے۔

میں نے صرف اپنے بھائی کو بتایا کہ ایئرپورٹ پر آ جائے اور کسی کو نہ بتائے کہ میں آ رہا ہوں۔ صبح کے چھ بجے ابو جی آٹا پیسنے والی چکی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر تو دور سے پہچاننے کی کوشش کرتے رہے، جب ان کا شک یقین میں تبدیل ہوا تو فوراََ تہہ بندھ سیدھی کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

میں نے ان کا ہاتھ چوما تو انہوں نے بے اختیار مجھے گلے سے لگا لیا۔ میں اس کی توقع نہیں کر رہا تھا لیکن اس دن ان کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو جاری تھے اور میری گالیں ان سے تر ہوئی جاتی تھیں۔

وہ کہتے جا رہے تھے کہ تم اتنی جلدی واپس کیسے آ گئے یار۔

یار کا لفظ انہوں نے شاید میرے لیے پہلی مرتبہ استعمال کیا تھا۔ شاید وہ روایتی پنجابی نہیں رہے تھے، شاید ان کا دل بہت چھوٹا ہو چکا تھا یا شاید وہ اپنی محبت کو روک نہیں پا رہے تھے۔ محلے والے بھی کئی دن یہی پوچھتے رہے کہ سنا ہے تم ڈی پورٹ ہو گئے ہو ورنہ اتنی جلدی تو کوئی بھی واپس نہیں آتا۔ امی جی کہتی ہیں کہ اس رات دیر تک ابو جی روتے رہے اور اللہ کا بار بار شکر بھی کرتے جاتے اور میں انہیں سمجھاتی رہی کہ آپ دل بڑا کریں آپ پہلے تو ایسے کبھی نہیں روئے۔

اس کے بعد میں جب بھی جرمنی واپس آیا تو ابو کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو جاتے۔ میں مسکرا کے انہیں حوصلہ دیتا رہتا۔ میرے لیے زندگی کی مشکل ترین اداکاری یہی ہوتی تھی۔ ایک دلیر والد کو اولاد کی جدائی کے دکھ میں روتا دیکھ آنکھ کا چھلک جانا قدرتی سی بات ہے لیکن میں بتیسی نکال کر ان کو حوصلہ دیتا رہتا کہ میں نے چھ ماہ بعد تو واپس آ جانا ہے۔ کار میں بیٹھتے ہی میں زور سے آنکھیں میچ لیتا تاکہ میرا کوئی آنسو میرے والد صاحب نہ دیکھ نہ لیں۔

پاٹیاں لیراں وَرگی روح، تے اُدھڑی میری ذات تیرے باہجوں سوہنیا، میری اَدھ چاننی رات


© Daily Urdu (Blogs)