Wo Aik Dabba Tafion Ka
کینٹین سے ٹافیوں کا ایک ڈبہ غائب ہوا۔ زیادہ سے زیادہ چند سو روپے کا ہوگا۔ مگر اس ایک ڈبے کی قیمت ہم سب نے بہت زیادہ چکائی ہے۔۔ تیرہ برس کے ایک بچے کا چہرہ نیلا پڑ گیا، ایک استاد حوالات پہنچ گیا، ایک تصویر پورے ملک میں گھوم گئی اور قوم حسبِ معمول دو گروہوں میں بٹ گئی۔
ایک گروہ کہتا ہے، ایسے استاد کو نشانِ عبرت بنا دو۔ دوسرا کہتا ہے، استاد کی عزت کا جنازہ نکال دیا، آج کل کے بچے ہیں ہی ایسے۔ عزیزان گرامی، دونوں آدھا سچ بول رہے ہیں اور آدھا سچ اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ نقصان کرتا ہے۔
اب ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کوشش کرتے ہیں۔۔
جوتا چہرے پر پڑنا مار نہیں، اہانت ہے، ذلت ہے۔ صرف ہماری تہذیب میں ہی نہیں شاید دنیا میں ہر جگہ۔۔ بڑے بڑے جھگڑوں میں لوگ تھپڑ معاف کر دیتے ہیں، جوتا معاف نہیں ہوتا
اب سوچیں، ایک تیرہ سالہ بچہ، کلاس فیلوز کے سامنے، اس استاد کے ہاتھوں جوتے کھا رہا ہے جسے اس نے باپ کی جگہ سمجھنا تھا۔ ہو سکتا ہے اس نے ٹافیاں چرائی ہوں۔ تو کیا ہوا؟ تیرہ برس کا بچہ ٹافیاں چرا لے تو یہ جرم کم اور سوال زیادہ ہے، بھوک تھی؟ دوستوں کا دباؤ تھا؟ محض شرارت تھی؟ گھر میں........
