3 May Qalam Ki Baghawat Kab Hogi?
3 مئی "قلم کی بغاوت کب ہوگی؟"
ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں World Press Freedom Day منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک گہری یاد دہانی ہے اس سچ کی جو اکثر دبایا جاتا ہے، اس آواز کی جو اکثر خاموش کرا دی جاتی ہے اور اس قلم کی جو کبھی جھکنے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ دن ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری صحافت کس سمت جا رہی ہے۔
صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتی ہے۔ اگر یہ آنکھ بند ہو جائے تو اندھیرا صرف گلیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچوں اور شعور تک پھیل جاتا ہے۔ اگر یہ کان بہرے ہو جائیں تو سچ کی آواز کہیں گم ہو جاتی ہے۔ ایک آزاد صحافت ہی وہ طاقت ہے جو حکمرانوں کو جوابدہ بناتی ہے، اداروں کو سیدھا رکھتی ہے اور عوام کو باخبر رکھتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہماری صحافت اس معیار پر پوری نہیں اتر رہی جس کی ایک باشعور معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے۔
آج کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک عجیب اور خطرناک رجحان سامنے آتا ہے۔ گلی، محلے اور بازار میں عام لوگ خود انصاف کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی موبائل فون ہاتھ میں لے کر ویڈیو بنا رہا ہے، کوئی مائیک پکڑ کر خود کو رپورٹر ظاہر کر رہا ہے۔ یہ منظر بظاہر جدید دور کی آزادی لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک خلا کی نشاندہی کرتا ہےوہ خلا جو ایک کمزور اور غیر مؤثر صحافت نے پیدا کیا........
