Insafi, Nooni Au Jiala
اِنصافی، نونی اور جیالا
انصافی، نونی اور جیالا تینوں ایک ہی محلے کے رہائشی ہیں۔ تینوں اپنے روزمرہ کے کاموں سے فراغت کے بعد شام کے وقت گپ شپ کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ سلام دعا کرنے کے فوراً بعد انصافی طنزاً انداز میں بولا: دوستو مبارک ہو تمہاری حکومت عوام پر جو پٹرول بم گرا رہی ہے اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کتنی عوام دوست ہے اور کتنا اُسے غریب کا احساس ہے۔ غریب کا تو جینا محال کر دیا ہے اس ناجائز حکومت نے!
نونی: میرے بھائی یہ تو کامن سینس کی بات ہے کہ اِس وقت جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں جو تیل کی صورتحال ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو مجبوری میں یہ فیصلہ لینا پڑا۔ پر تم خان کے فالورز کا لاجک سے کیا لینا دینا۔ اِس جملے کے بعد نونی اور جیالے نے مل کر زور دار قہقہہ لگایا۔
جیالا: اور ویسے بھی خان کے دور میں کون سا دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ گئی تھی اور رہی مہنگائی کی بات تو وہ ہر دور میں رہی ہے ٹھیک ہے مان لیتے ہیں آج بھی مہنگائی ہے مگر تمہارے لیڈر کے دور میں بھی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی تھی۔
انصافی: میرے لیڈر کو حکومت کرنے کا وقت ہی کتنا ملا ہے؟ تم دونوں کی پارٹیاں تو تین تین چار چار باریاں لے چکی ہیں اور ہر باری کے آخر میں یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اگلی دفع کے لیے ہمیں موقع دیں ہم آپ کے سارے مسائل حل کر دیں گے اور ویسے بھی تم لوگوں سے کیا شکوہ تمہاری حکومت کون سا عوام کے ووٹوں سے بنی ہے!
نونی: جی ہمیں بھی پتہ ہے جس طرح تمہارے لیڈر کو آر ٹی ایس بٹھا کر لایا گیا تھا وہ سب بھی ہم بخوبی جانتے ہیں۔ اِس حمام میں سب ننگے ہیں۔
انصافی: میرا لیڈر تو صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کا لیڈر تھا جس نے اقوام متحدہ میں جا کر اسلام کا پرچم سر بلند کیا۔ میرے لیڈر نے تو جن اسلام مخالف قوتوں کو ایبسولیوٹلی ناٹ کہا تمہارا وزیراعظم تو ان کی تعریفوں کے پُل باندھتے نہیں تھکتا اور اُس ٹرمپ کو اَمن کا نوبل پرائز دلوانے کا خواہش مند تھا، جو ہر جنگ کی پشت پناہی کرتا ہے اور اِس وقت بھی دنیا میں جاری بدامنی کا موجب ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ وینزویلا کی حکومت میری مرضی کی ہو اور کبھی کہتا ہے کہ ایران کی حکومت میری مرضی کی ہو۔
جیالا: ویسے ایران والے معاملے پر تو ہم بھی........
