menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Professor Nazar Shahab: Balochistan Mein Classiciat Ki Aik Goonj

22 0
25.02.2026

پروفیسر نذر شہاب: بلوچستان میں کلاسیکیت کی ایک گونج

پروفیسر نذر شہاب صاحب نے 12 اگست 1961 کو مری آباد کوئٹہ میں آنکھ کھولی۔ پرائمری تعلیم مری آباد کے ایک سرکاری سکول سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمٹ ٹیکنیکل ہائی سکول کوئٹہ سے کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد 1979 کو بی اینڈ آر میں جونیئر کلرک بن گئے۔ ڈیڑھ سال بعد بلوچستان یونیورسٹی میں بحیثیت اسٹینو ٹائپسٹ تقرر ہوئی اور دوبارہ ایف اے اور بی اے کے امتحانات پرائیوٹ حیثیت سے پاس کرنے کا عزم کیا اور کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں 1986 میں ایم اے اردو کر لیا۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کی جستجو بھی رہی۔ بالآخر 1993 کو گورنمنٹ ڈگری کالج مستونگ میں اردو لیکچرار تعینات ہوئے اور 2024 میں گورنمنٹ ڈگری کالج مسلم باغ سے بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر ریٹائر ہوگئے۔

پروفیسر صاحب کے آباؤ اجداد کا تعلق توبہ کاکڑی سے ہے۔ انھوں نے قبائلی تنازعات اور علاقائی انتقامی کارروائیوں سے تنگ آکر خانوزئی سے تقریباََ پانچ میل دور مرغہ زکر بازئی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ وہ قومیت کے اعتبار سے کاکڑ قبیلے اور سلیمان خیل شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔

شہاب صاحب نے بھرپور جوانی گزاری ہے۔ جونیئر کلرک سے پروفیسر بنے، فٹ بال کے مایہ ناز کھلاڑی رہے، کراٹے بازی میں مختلف اسناد سے نوازا گیا، اسٹیج ڈراموں میں کامیاب کردار کے طور پر پہچانا گیا، ریڈیو پاکستان میں تین سال تک اناؤنسر رہے، فن مصوری میں معروف مصور کلیم خان صاحب کی زیر نگرانی ملکی سطح پر تعریفی اعزازات حاصل کیے۔ مرحوم عبد الحلیم صاحب سے گائیکی اور سروں کا فن سیکھا اور 1990 میں ادب کی پر خار وادی میں قدم رکھا۔ وہ شاعری میں غزل کے دلدادہ ہیں اور خالد ثاقب مرحوم سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ میر، ذوق، مؤمن اور غالب سے متاثر ہیں۔ ان کی شاعری پر میر کے اسلوب اور فکر کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔

میں پروفیسر نذر شہاب کو ذاتی طور پر بہت قریب سے جانتا ہوں۔ ان کا اردو کلاسیکی عہد اور ادب سے بڑا لگاؤ ہے۔ پاکستانی ادب کی سست ترین رفتاری سے عموماََ اور بلوچستانی ادب کی زبوں حالی سے خصوصا نالاں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وہ بلوچستان میں ادبی مراکز اور ادبی سرخیلوں سے بھی شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ میں نے بہ ذات خود جب بلوچستانی ادب اور بلوچستانی ادبا کو قریب سے دیکھنے اورسمجھنے کی کوشش کی تو کم از کم میں نے اردو پروفیسروں کو خصوصا اردو سے دور اور غیر اردو آفیسروں، بیورو کریٹوں اور ٹیکنو کریٹوں کو اردو ادب سے قریب پایا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج میں ایک ملاقات میں پروفیسر صاحب نے سو غزلوں پر مشتمل اپنی شاعری کا مسودہ میرے حوالے کیا۔ شہاب صاحب کو ابھی تک بہت کم رسالوں اور اخباروں میں متعارف کرایا گیا ہے اور میری کوششوں سے اب تک چند طالب علموں نے ان پر مقالات بھی لکھے ہیں۔ شہاب صاحب نے ابھی تک اپنے شعری مسودے کو کتابی نام نہیں دیا ہے اور نہ ہی کتابی شکل دی ہے۔ تاہم اب میں نے ان کو اس کار خیر پر آمادہ کیا ہے۔ مسودے میں شامل تمام غزلیں سبز اور سیاہ روشنائی سے اپنی ڈائری میں ہاتھ سے لکھی ہیں۔ ہینڈ رائٹنگ صاف اور واضح ہے۔

حسب روایت مسودے کا آغاز حمد اور........

© Daily Urdu (Blogs)