menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

BNU Ka Degree Show 2026 Aur Fan Ke Naye Dareeche

30 0
16.07.2026

BNU کا "ڈگری شو 2026" اور فن کے نئے دریچ

ہر دور نے فن کو دیکھنے، سمجھنے اور پیش کرنے کے نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ فن کی وسعت میں اضافہ ہوا اور اس نے روایتی حدود سے نکل کر نئی جہتیں اختیار کیں۔ آج فن صرف مصوری یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا، ویڈیو آرٹ، تنصیبات، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور ورچوئل تجربات تک پھیل چکا ہے۔ ان جدید ذرائع نے فنکاروں کو اظہار کے ایسے امکانات فراہم کیے ہیں جو ماضی میں ناقابلِ تصور تھے۔

29 جون کو مریم داؤد اسکول برائے بصری فنون و ڈیزائن، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی BNU میں "ڈگری شو 2026" منعقد ہوا جو فن، ڈیزائن اور تخلیقی تحقیق کی متنوع جہات کا ایک شاندار مظہر رہا، جس میں چار انڈرگریجویٹ پروگراموں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے 142 تھیسس پیش کیے گئے۔ افتتاحی تقریب کا آغاز BNU ایوارڈ برائے نمایاں خدماتِ فنون سے ہوا، جو پاکستان کے ممتاز معمار جناب نئیر علی دادا کے اعزاز میں پیش کیا گیا۔ ایک ہفتے پر مشتمل عوامی نمائش منعقد ہوئی، جہاں ناظرین کو تخلیقی اظہار، اختراعی فکر اور ابھرتی ہوئی فنی صلاحیتوں کے متنوع مظاہر دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ڈگری شو نئی نسل کے فنکاروں اور ڈیزائنرز کے خوابوں، سوالات، تجربات اور امکانات کو اجاگرکرتا ہے، جو فن اور ڈیزائن کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

عصرِ حاضر میں فنونِ لطیفہ کے میدان میں تنوع صرف موضوعات اور تصورات تک محدود نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل میڈیا اور بین الشعبہ جاتی (Interdisciplinary) رجحانات نے نوجوان نسل کے فکری افق کو بے حد وسیع کر دیا ہے۔ آج کا فنکار محض روایتی مصوری یا مجسمہ سازی تک محدود نہیں بلکہ ویڈیو آرٹ، اینیمیشن، روبوٹکس، تنصیبات (Installations)، ڈیجیٹل امیجری، ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کے ذریعے اپنے مشاہدات کو بیان کر رہا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نوجوان فنکار اپنی ذات، معاشرتی مسائل، شناخت، ماحولیات، ہجرت، یادداشت اور ثقافتی ورثے جیسے موضوعات کو نئے اور منفرد انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

ڈگری شو میں رکھے گے کام کا تجزیہ کریں تو محرل حسن کا فن گندم کو زمین، محنت اور ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کا مرکز "سونا موتی" یا پیغمبری گندم ہے، جو وادیٔ سندھ کی قدیم زرعی روایت سے جڑی ایک مقامی قسم ہے۔ یہ کام جدید زرعی تبدیلیوں اور نئے بیجوں کے استعمال کے تناظر میں خوراک، زمین اور روایتی علم کے بدلتے تعلقات کو اجاگر کرتا ہے۔ کام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ہم اپنی زرعی شناخت اور ورثے میں سے کیا محفوظ رکھ رہے ہیں اور کیا کھو رہے ہیں۔

رِدہ نعیم کا تخلیقی کام دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی........

© Daily Urdu (Blogs)