menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kaba Tullah: Markar e Yaqeen Aur Wahdat e Ummat

15 0
yesterday

کعبۃ اللہ: مرکزِ یقین اور وحدتِ امت

کعبۃ اللہ! یہ محض ایک عمارت کا نام نہیں، یہ توحید کا نشان، ایمان کا مرکز، دلوں کا قبلہ اور امتِ مسلمہ کی وحدت کی علامت ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں، مختلف نسلوں، مختلف زبانوں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب اس مقدس گھر کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں تو ان کی تمام ظاہری شناختیں ایک عظیم روحانی نسبت میں سمٹ جاتی ہیں: اللہ کی بندگی۔

یہ مرکزِ یقین ہے، مقامِ رشد ہے، مسکنِ ہدایت ہے، درِ عزت و توقیر ہے اور جائے تطہیر و تقدیس ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ انسانی الفاظ سے نہیں کیا جاسکتا، اس کے مقام کی گواہی خود کلامِ الٰہی دیتا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے: "اللہ تعالیٰ نے مقامِ محترم کعبہ کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے"۔ (سورۃ المائدہ: 97)

کعبۃ اللہ کی یہی مرکزیت اسے محض ایک مقدس مقام نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے امتِ مسلمہ کے دینی تشخص اور روحانی وحدت کا محور بنا دیتی ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں، ایک ہی رب کے سامنے جھکتے ہیں اور ایک ہی مرکز سے اپنی روحانی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔

کعبۃ اللہ: امن کا مرکز

اللہ تعالیٰ نے اس مقدس گھر کو امن اور ثواب کی جگہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: "اور ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنایا"۔ (سورۃ البقرہ: 125)

اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: "اور جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا"۔ (سورۃ آل عمران: 97)

یہ وہ گھر ہے جس کی زیارت کی آرزو دل میں پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی مصروفیت اس آرزو کو پوری طرح خاموش نہیں کرسکتی۔ جسے ایک مرتبہ حاضری نصیب ہوجائے، اس کے دل میں دوبارہ آنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ بیت اللہ کا دیدار بسا اوقات ایک ایسی روحانی کیفیت عطا کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر انسان کو اپنی بے بسی اور اپنے رب کی کبریائی کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں پہنچ کر دنیاوی تفاخر کی دیواریں گرنے لگتی ہیں اور بندہ اپنی اصل حقیقت، یعنی عبد ہونے کی حقیقت، سے آشنا ہوتا ہے۔

کعبۃ اللہ کی نسبت تاریخِ انسانی کی گہرائیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ کی تعمیرِ کعبہ کا منظر جس انداز سے محفوظ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

باپ اور بیٹا بیت اللہ کی دیواریں بلند کررہے ہیں، مگر ان کے لبوں پر اپنی عظیم خدمت کا فخر نہیں، بلکہ عاجزی اور قبولیت کی دعا ہے: "اے ہمارے رب! ہماری یہ خدمت قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے"۔ (سورۃ البقرہ: 127)

یہ منظر ہمیں عبادت کا ایک بنیادی سبق دیتا ہے: عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بندۂ مومن کے دل میں اپنی کوشش کا غرور........

© Daily Urdu (Blogs)