Hazrat Shoaib Ke Mazar Par
حضرت شعیبؑ کے مزار پر
ترکی سے ہمارا قافلہ اردن پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور باب کھل گیا ہو۔ اردنی شاید واحد عرب قوم ہے جو انگریزی سے خاصی مانوس ہے اور اس مانوسیت کا عملی مظاہرہ ہمیں پہلے ہی دن دیکھنے کو ملا۔ عبداللہ صاحب، جو ہمارے گروپ کی نمائندگی کر رہے تھے، پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ اردنی حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں انہوں نے اردن کی تاریخ، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر ایسی مدلل اور اعداد و شمار سے بھرپور گفتگو کی کہ میز کے دونوں طرف سنجیدہ توجہ قائم رہی۔ عمان، جو اردن کا دارالحکومت ہے، پہلی نظر میں ہی دل کو بھا گیا۔ صاف ستھرا، منظم اور حیرت انگیز طور پر کوڑے کرکٹ سے پاک شہر۔ سڑکیں گویا دھلی ہوئی، فضا میں ایک ترتیب اور ٹھہراؤ۔ یہ وہ پہلا تاثر تھا جو دیر تک ساتھ رہا۔
اردن کی زمین آثارِ قدیمہ سے بھری پڑی ہے، مگر پیٹرا کی بات ہی کچھ اور ہے۔ جنوبی اردن میں واقع یہ شہر پتھروں میں تراشی ہوئی تاریخ کا جیتا جاگتا استعارہ........
