menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zahra

22 0
26.07.2026

ایک دن افتخار کشمیری نے بڑے تپاک سے کہا، "آج میرے فلیٹ پر چلتے ہیں"۔ ہم یونیورسٹی کی سمت چل پڑے، سیدھا چلتے ہوئے پہلا چوراہا عبور کرکے بائیں ہاتھ مڑے، سڑک کنارے بس سٹاپ کے پیچھے چار ننھے کیوسک، بڑی بلڈنگ کے نیچے بڑا سٹور، سیڑھیاں عقب میں تھیں، تیسرے فلور پر پہنچ کر ایک فلیٹ کی بیل بجائی، دروازہ کھلا تو ایک دبلی پتلی قزاق خاتون نے استقبال کیا، آواز باریک مگر بلند تھی، چہرے پر مسکراہٹ اتنی نایاب جیسے صحرا میں برف، فلیٹ میں قدم رکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ یہاں ہر چیز اپنی مقررہ جگہ پر رہنے کی پابند ہے اور اگر کسی نے غلطی سے بھی ترتیب بگاڑی تو زہرہ کی باریک مگر توپ خانے جیسی آواز فوراً حرکت میں آ جاتی۔

کاریڈور کے دائیں جانب ایک نفیس ریک میں جوتے اتار کر رکھنے پڑے، آگے دائیں طرف زہرہ کا کمرہ، اگلا کمرہ افتخار کا، جس کے باہر ایک کشادہ ٹیرس ایونیو شاکاریما کی طرف کھلتا تھا، وہاں کھڑے ہو کر شہر کی رونق دیکھنے کا اپنا ہی لطف تھا، بائیں طرف کچن میں ایک گول میز اور چند کرسیاں رکھ کر خوبصورت ڈائننگ روم بنا دیا گیا تھا، ہر برتن اپنی جگہ پر اور ہر چیز انتہائی سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔

کچن کے بعد ایک وسیع ٹی وی لاؤنج، پھر ایک سنگل بیڈ والا کمرہ، جس میں بستر، میز اور وارڈروب تو موجود تھے مگر مکین ندارد، یہ مہمانوں کے لیے مخصوص تھا، دو الگ واش روم، ایک غسل کے لیے اور دوسرا اپنی اصل ذمہ داری نبھانے کے لیے، اس زمانے میں یہ سہولت بھی کسی شاہانہ انتظام سے کم محسوس نہیں ہوتی تھی، کمروں میں بڑی بڑی کھڑکیاں، ڈبل پردے، وال ٹو وال قالین اور اس کے علاوہ فرش پر بھی خوبصورت قالین بچھے تھے، ہر گوشہ زہرہ کے نفیس ذوق کی گواہی دیتا تھا، ٹی وی لاؤنج کی اپنی ہی شان تھی، پرانا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ایسا آزاد منش تھا کہ کبھی چلنے کا فیصلہ خود کرتا اور کبھی آرام کرنے کا، اس کا ریموٹ شاید قسمت کے ہاتھ میں تھا۔

افتخار کے کمرے میں لکڑی کا ایک شاندار پیانو رکھا تھا، ایک کونے میں قدیم گراموفون اور بڑے........

© Daily Urdu (Blogs)