menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Russian Zuban Seekhna

24 0
13.04.2026

دوپہر کو ہم کمرے میں بیٹھے تھے کہ میر حُسین کا بُلاوا آیا، آفس بلایا تھا، اگلے سوموار سے سمسٹر شروع ہونے کی نوید سنائی، چونکہ ہم کو رشین زبان نہ آتی تھی لہذا پہلے ایک سمسٹر رشین زبان کا کورس بھی ساتھ لازمی قرار پایا، آدھے سال کی فیس ادا کرکے نیا ویزہ لگوانے کیلئے پاسپورٹ جمع کروا دیا، اس کے بعد سٹوڈنٹ کارڈ بننا تھا جسے ستودنت چسکی بیلت بولتے، اس کے بعد بنک اکاؤنٹ وغیرہ کھل سکتا تھا، آفس سے باہر نکلے تو ڈاکٹر عمران نذیر فرام گجرات اور علی سرور سے ہماری ملاقات ہوئی، وہ ہمیں اپنے ساتھ اپنے فلیٹ پر لے گئے، بڑا شاندار ماحول تھا، یہ دونوں پڑھائی کے ساتھ ساتھ سٹوڈنٹ کنٹریکٹر بھی تھے، اب تو ماشاء اللہ بہت ترقی کر چکے ہیں، بشکیک کی سرکاری یونیورسٹی اور آدم یونیورٹی کے مرکزی کنٹریکٹر ہیں۔

یونیورسٹی میں نئے طلباء کو خوش آمدید کہنے کیلئے باقاعدہ ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی، پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ انٹرنیشنل درجے کی یونیورسٹی کس شاندار انداز میں نئے طلباء کو خوش آمدید کرتی ہے، یہ بہت طویل تقریب تھی اس لئے مختصر لکھ رہا ہوں، تاہم اختتام پر ڈانس پارٹی بھی تھی، تھرڈ ایئر میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں ہماری خوش آمدید تقریب ہوئی تھی تب وائس پرنسپل جاوید اقبال شیخ کی تمام تر تقریر کا ایک ہی مقصد تھا کہ کتابی کیڑے بن جاؤ۔

کلاس کا پہلا دن، میڈم وکٹوریہ رئیسموونا، ہماری انچارج، اونچی لمبی، تیس سال عمر، چھ فُٹ قد، تھوڑی سی فربہ لیکن بلا کی خوب صورت، جوانی کی میناکشی سسشادری جیسی شکل، ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتی اور بڑے سہل انداز میں سمجھاتی، ہم 19 طلباء ہوگئے تھے، سب پُرجوش تھے، تعارف ہوا، شعیب فرام پسرور، ظہیرالدین بابر فرام ڈی جی خان، یہ دونوں روم میٹ تھے، ملک زاہد عمران فرام سرگودھا،........

© Daily Urdu (Blogs)