menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hostel Mein Qayam Karna (2)

21 15
15.02.2026

ہوسٹل میں قیام کرنا (2)

یہاں میری ملاقات ڈاکٹر کامران قدیر فرام راولپنڈی سے ہوئی، وہ باڈی بلڈر تھا اور بلا کا ذہین و شاطر، وہ اور ظہیرالدین بابر فرام گوجرانوالہ روم میٹ تھے، کامران بندے کو باتوں میں الجھا کر رکھ دیتا تھا، رات کو ہم اس کے کمرے میں جمع ہوتے، ٹارگٹ ہمیشہ نیا بندہ ہوتا، سب دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے، کامران چادر اوڑھ کر چڑیل کا واقعہ سنانا شروع کرتا، "اندھیری رات، بارش زوروں پر، ہر طرف ہُو کا عالم، ایک لڑکا بائیک پر سوار قبرستان کے پاس سے گزر رہا ہے، بائیک پنکچر ہو جاتی ہے اور لڑکا پریشان، ڈر کے مارے اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اتنے میں ایک لڑکی آتی ہے اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کرتی ہے، لڑکا پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تجسس میں مبتلا ہو کر وہ اسے آوازیں دیتا ہے لیکن جواب ندارد، اب بارش تیز ہوگئی ہے، لڑکا اسے کہتا ہے اپنا نام تو بتا ؤ، تم ہو کون؟ بجلی کڑکتی ہے، لڑکی پیچھے مڑتی ہے، اس کے سامنے والے دانتوں سے خون ٹپک رہا ہے، ہائے اللہ وہ ایک خونخوار چڑیل ہے"۔

یہاں تک کہانی میں اچھا خاصہ سسپنس پیدا ہو چکا ہوتا تھا، سب دم سادھے خاموش، ہمہ تن گوش ہوتے، کسی کے سانس کی آواز بھی نہ آتی، جب چڑیل کے پیچھے مڑ کر نام بتانے والا مرحلہ آتا، عین اسی لمحے بجلی والے سوئچ کے پاس بیٹھا بندہ ہاتھ بڑھا کر بلب بجھا دیتا، کمرے میں گھپ اندھیرا چھا جاتا، انتہائی سرعت سے کامران پیچھے مڑ کر نئے بندے پر چادر پھینک کر بولتا "میرا نام کالی ماتا ہے آج تیرا خون پی کر 100 شکار پورے کرنے کا جشن مناؤں گی"۔

کمرے میں ہڑبونگ مچ جاتی، نیا بندہ چیختا، ہاتھ پاؤں مارتا، پریشان ہوتا، دھکے مار کر کامران کو ہٹانے کی کوشش کرتا لیکن کامران میں سرکاری سانڈ جیسی طاقت تھی، وہ نووارد کو زور سے جکڑ لیتا، پھر جب لائٹ آن کرتے تو نووارد کے اوسان خطا ہوتے، جب معاملہ سمجھ آتا تو وہ بھی ہنسی میں شامل ہو جاتا، جب پہلے دن میری باری آئی، لائٹ بند ہوئی، میرے دماغ میں کھٹکا ہوا اور میں کرسی سے نیچے کھسک........

© Daily Urdu (Blogs)