Kaghazi Taleem
ایک زمانہ تھا جب تعلیم کو شعور، کردار اور ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، لیکن آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں علم سے زیادہ کاغذات کی اہمیت دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر سب کچھ درست نظر آتا ہے، اچھے نتائج آتے ہیں، طلبہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں اور ڈگریاں بھی حاصل کر لیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی تعلیم بھی دی جا رہی ہے یا ہم ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں تعلیم صرف گریڈز اور نتائج تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟
میرے اپنے تعلیمی سفر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے ہمارے نظامِ تعلیم پر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حال ہی میں میں نے اپنے دوسرے سمسٹر کے امتحانات دیے۔ ایک مضمون میں میں نے تقریباً تمام لیکچرز میں شرکت کی تھی۔ چند آن لائن کلاسز بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر مجھ سے رہ گئیں، لیکن میری حاضری اتنی ضرور تھی کہ مجھے امتحان دینے کی اجازت دی جائے۔ تاہم فائنل امتحان کے دوران اچانک مجھے یہ کہہ کر امتحانی ہال سے اٹھا لیا گیا کہ میری........
