menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Insan Toot-Ta Kese Hai?

13 0
latest

گزشتہ روز صبح دفتر جاتے ہوئے میں نے سڑک کے بیچ میں ایک معمولی سا منظر دیکھا۔ ایک موٹر سائیکل رش کی وجہ سے رکی ہوئی تھی، پیچھے بیٹھی خاتون نے آہستگی سے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کچھ کہا جس پر شوہر نے انتہائی درشت لہجے میں بآواز بلند اسے جھاڑ پلا دی۔ خاتون نے نم آنکھوں سے اپنے دائیں بائیں جائرہ لیا کہ کتنے لوگوں نے وہ آواز سنی۔ اتنے میں ہارن بجا، سامنے والی گاڑی نے آگے حرکت کی اور موٹر سائیکل چل پڑی۔

منظر ختم ہوگیا، مگر میرے ذہن میں ایک سوال چھوڑ گیا: انسان ٹوٹتا کیسے ہے؟ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ انسان کسی بڑے حادثے، کسی شدید صدمے یا اچانک آنے والی آفت سے ہی ٹوٹتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان زیادہ تر حادثے سے نہیں، مسلسل نظر انداز ہونے سے ٹوٹتا ہے۔ وہ اس وقت بکھرنے لگتا ہے جب اس کی بات سنی نہ جائے، اس کی کوشش کو دیکھا نہ جائے اور اس کی تھکن کو محسوس نہ کیا جائے۔

ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی سب سے بنیادی ضرورت "تسلیم کیے جانے" (validation) کی ہوتی ہے۔ ایک بچہ ماں کی گود میں اسی لیے پرسکون ہوتا ہے کہ وہاں اسے نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ وہ روتا ہے تو کوئی چونک جاتا ہے، ہنستا ہے تو کوئی مسکرا دیتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، ہماری چیخیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ ہم مسکراتے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔

دفاتر میں آپ نے ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جو برسوں وقت پر آتے ہیں، خاموشی سے کام کرتے ہیں، کبھی شکایت نہیں کرتے۔ ایک دن کسی بات پر وہ اچانک بدتمیز ہو جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں: "یہ تو بڑا بدل گیا ہے"۔ دراصل وہ بدلا نہیں ہوتا، وہ تھک چکا ہوتا ہے۔ اس کی محنت کا اعتراف نہیں ہوا، اس کی خاموش وفاداری کو عادت سمجھ لیا گیا اور عادتیں انسان کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہیں۔

معاشرتی زندگی میں بھی یہی کہانی ہے۔ گھروں میں مائیں برسوں بغیر شکایت کے سب کے لیے جیتی ہیں۔ ایک دن ذرا سی بات پر رو پڑتی ہیں تو سب حیران ہو جاتے ہیں۔ شوہر بیوی کی خاموشی کو "سب ٹھیک ہے" سمجھ لیتا ہے حالانکہ وہ خاموشی دراصل آخری چیخ ہوتی ہے۔ دوستوں کی محفل میں جو شخص ہمیشہ سب کا بوجھ اٹھاتا ہے، ایک دن تنہا ہو جاتا ہے کیونکہ کسی نے کبھی اس سے نہیں پوچھا: "تم کیسے ہو؟"

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی ذہنی تھکن جسمانی تھکن سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جسم آرام سے ٹھیک ہو جاتا ہے مگر ذہن کو اگر مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ اندر سے تھک جاتا ہے۔ ڈپریشن اکثر کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں بلکہ روز روز کے چھوٹے زخموں سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ زخم جو دکھتے نہیں، مگر گہرے ہوتے جاتے ہیں۔

مجھے اپنا ایک ذاتی تجربہ یاد آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب میں مسلسل لکھ رہا تھا، بول رہا تھا، لوگوں کے لیے کھڑا ہو رہا تھا۔ پھر چند سال پہلے مجھ پر ایک پریشانی آن پڑی۔ کئی قریبی دوستوں نے کہا: "آپ تو بہت مضبوط ہیں، آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟" کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں تھکا ہوا ہوں یا نہیں۔ ایک دن اچانک قلم ہاتھ میں رک گیا۔ لفظ ساتھ چھوڑ گئے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، یہ مسلسل خود کو نظرانداز کرنے کی سزا ہے۔ میں نے خود بھی اپنی تھکن کو سنجیدہ نہیں لیا تھا۔

انسان کا سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ وہ گِر جائے بلکہ یہ ہے کہ اس کے گِرنے سے پہلے کسی نے اسے تھامنے کی کوشش نہ کی۔ ہم ایک دوسرے کو اس وقت یاد کرتے ہیں جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ حالانکہ ایک وقت پر کہا گیا ایک جملہ، ایک سادہ سا سوال، ایک خاموش سی توجہ بہت کچھ بچا سکتی ہے۔

شاید ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسکراہٹ خوشی کی علامت نہیں ہوتی اور ہر خاموشی اطمینان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ شور مچا کر نہیں ٹوٹتے، وہ آہستہ آہستہ بکھرتے ہیں، اتنی خاموشی سے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔

اگلی بار جب آپ کسی کو دیکھیں جو ہمیشہ "ٹھیک ہوں " کہتا ہے تو ذرا رک کر پوچھ لیجیے: واقعی ٹھیک ہو؟ ممکن ہے یہی سوال کسی انسان کو حادثے سے نہیں، بلکہ ٹوٹنے سے بچا لے۔


© Daily Urdu (Blogs)