Dada Behtareen Dost
مجھے آج بھی یاد ہے کہ اپنی شادی پر میں نے بارات والے دن کیلئے اپنی مرضی سے تھری پیس سوٹ بنوایا جو کافی مہنگا تھا۔ ابا جی کو وہ سوٹ کافی پسند آیا تھا۔ شادی سے چار دن پہلے دوستوں کی پرزور فرمائش پر بارات والے دن شیروانی جبکہ ولیمے والے دن وہ تھری پیس سوٹ پہننے کا فیصلہ کیا جس پر ابا جی تھوڑا ناراض ہوئے۔ دادا جی کو جب پتہ چلا تو رات کو انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور چپکے سے پچیس ہزار روپے میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا "یہ پیسے لو اور اپنی پسند کا سوٹ لے آؤ تمہارے ابا کو میں خود منا لوں گا"۔
اگلے دن ہی میں اپنے کزن کے ساتھ لاہور گیا اور بہترین سی شیروانی خرید لایا۔ تب میں نے یہ جانا کہ "بچے کا سب سے پہلا دوست اس کا دادا ہوتا ہے، جبکہ دادا کا سب سے آخری دوست اس کا پوتا ہوتا ہے" کیوں کہا جاتا ہے۔ یہ جملہ محض لفظوں کی ترتیب نہیں، یہ وقت کے پرت پر لکھی ہوئی ایک ایسی سچائی ہے جو پڑھتے ہی دل میں اتر جاتی ہے اور اتر کر وہیں ٹھہر جاتی ہے۔
بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو دنیا اس کے لیے شور، اجنبیت اور خوف کا نام ہوتی ہے۔ ماں کی گود اسے سکون دیتی ہے، باپ کا سایہ اسے تحفظ دیتا ہے مگر دیگر مرد حضرات میں جو رشتہ اسے لفظوں سے پہلے مسکراہٹ سکھاتا ہے، جو اسے باتوں سے........
