Wales Aur Manchester Mein Guzre Din
مانچسٹر لے جانے کے لیے میرے انتہائی قریبی دوست سہیل گوندل آکسفورڈ شائر آ گئے۔ اس کے ساتھ بلال، ثنأ اور محسن بھی تھے۔ سہیل اور مظہر مختلف اوقات میں میرے ساتھ ایک تعلیمی ادارے میں پڑھاتے رہے، غائبانہ انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کا نام سن رکھا تھا لیکن یہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ دن کا کھانا ہم نے مظہر کے پاس کھایا اور قریب ایک بجے ہم مانچسٹر کی طرف روانہ ہو گئے۔ آکسفورڈ سے مانچسٹر روڈ کے ذریعے فاصلہ تقریباََ 203 کلومیٹر تھا، سہیل سے میری ملاقات کافی عرصہ بعد ہو رہی تھی اس لیے سارے رستے ہم پاکستان میں اپنے گزرے وقت اور پرانے دوستوں کو یاد کرتے رہے۔ وہ 2010ء میں سٹڈی ویزا پر یہاں انگلینڈ آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا، آج الحمدللہ وہ مانچسٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔
سارا انگلینڈ روڈز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہے اور ہر روڈ بالکل ہماری موٹروے کی طرح ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے ملک کی موٹروے دراصل انگلینڈ کے روڈ کی کاپی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ہم اڑھائی گھنٹوں میں مانچسٹر پہنچ گئے، سہیل کا وہاں اپنا گھر ہے لیکن اس نے میرے آرام کی خاطر ہوٹل میں انتہائی آرام دہ کمرہ بک کروا رکھا تھا، میں نے ہوٹل میں چیک ان کیا اور سہیل مجھے لے کر اپنے گھر آگیا جہاں اس نے رات کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانے پر سہیل صاحب کے بچوں کے علاوہ چند اور دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی۔
میں انگلینڈ میں کسی بھی دوست کے گھر گیا تو یہ بات دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ وہاں رہنے والے اپنے گھروں میں بچوں میں اسلامی تعلیمات، روایات اور اخلاقی اقدار کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب کوئی بھی کمیونٹی اقلیت میں ہوتی ہیں تو وہ ہمیشہ اپنی مذہبی پہچان کو نہیں بھولتی، شاید یہی وجہ ہے کہ وہاں مسلم کمیونٹی ہم سے زیادہ پریکٹیکل مسلم ہیں، ڈنر کے بعد وہاں سہیل کے گھر ہی یہ پروگرام طے ہوا کہ ہم صبح ویلز دیکھنے جائیں گے۔
اگلی صبح نو بجے سہیل مجھے پک کرنے ہوٹل آ گیا، ناشتہ کرنے کے بعد ہم 10 دوست دو گاڑیوں پر تقریباََ ساڑھے دس بجے مانچسٹر سے ویلز کے لیے نکلے، ویلز ایک چھوٹا سا ملک ہے جو گریٹ برٹن میں شامل ہے۔ عام طور پر گریٹ برٹن اور یو کے، کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے لیکن ان دونوں میں فرق ہے۔ گریٹ برٹن دراصل ایک جزیرہ ہے جس میں تین ملک انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز شامل ہیں جبکہ یونائٹڈ کنگڈم میں چوتھا ملک شمالی آئی لینڈ بھی شامل ہے۔
ہم انگلینڈ سے ویلز کب داخل ہوئے پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ گاڑی روڈ پر تیزی سے چل رہی تھی اور میں نے ویلز کا صرف ایک سائن بورڈ دیکھا، اس کی نہ تو کوئی سرحد تھی اور نہ ہی کوئی چیک پوسٹ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلینڈ اور اس کے دیہی علاقے خوبصورت ہیں مگر جونہی ہماری گاڑی ویلز میں داخل ہوئی تو وہاں کی خوبصورتی حیران کن تھی، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، اس سبزے کے درمیان خوبصورت سڑک، کہیں پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا اور کہیں سر سبز کھلے میدان۔ ان کھلے میدانوں میں کہیں خوبصورت........
