Mustaqil Mizaji Ka Kamal
روس کے ایک چھوٹے سے برف پوش گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام "ایوان" تھا۔ وہ ایک عام کسان کا بیٹا تھا، مگر اس کے دل میں اگے بڑھنے کا غیر معمولی خواب تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دن اپنے پورے علاقے کا بہترین لکڑی کا کاریگر بنے۔ گاؤں کے لوگ اس کی بات سن کر ہنستے تھے۔ "ایوان! تم سے یہ کام نہیں ہوگا۔ تمہارے ہاتھ بہت کمزور ہیں، تمہارے پاس نہ استاد ہے، نہ دولت اور نہ وسائل"۔ لیکن ایوان ہر تنقید کے جواب میں صرف مسکرا دیتا۔
ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ جاگ جاتا۔ برف سے ڈھکے راستوں پر چلتا ہوا جنگل پہنچتا، لکڑیاں جمع کرتا اور گھنٹوں ان پر نقش و نگار بنانے کی مشق کرتا رہا۔ شروع میں اس کے بنائے ہوئے کھلونے ٹیڑھے میڑھے ہوتے تھے، کبھی لکڑی ٹوٹ جاتی، کبھی ڈیزائن خراب ہو جاتا۔ کئی بار اس نے غصے میں اپنے اوزار پھینک دیے، مگر اگلی صبح پھر وہی جذبہ اسے واپس لے آتا۔ کئی سال ایسے ہی گزر گئے۔ ایک دن گاؤں میں ایک مشہور روسی تاجر آیا۔ اس کی نظر ایوان کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت لکڑی کی کشتی پر پڑی۔ وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
"یہ شاہکار کس نے بنایا ہے؟" لوگوں نے ایوان کا نام بتایا۔
تاجر نے فوراً اس کا سارا کام خرید لیا اور اسے شہر آنے کی دعوت دی۔ چند برس بعد ایوان کے بنائے ہوئے شاہکار پورے علاقے میں مشہور ہو گئے۔ وہ لوگ جو کبھی اس پر ہنستے تھے، آج وہی دوسروں کو اس کی مثال دیتے۔ ایک دن ایک نوجوان نے ایوان سے پوچھا: "تم نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟" وہ مسکرایا اور جواب دیا: "میں دوسروں سے زیادہ ذہین نہیں تھا نہ ہی زیادہ طاقتور۔ میں صرف ہر روز کام کرتا رہا، جب لوگ رک جاتے، میں چلتا رہتا۔ جب لوگ تھک جاتے، میں کوشش کرتا رہتا۔ یہ........
