Jashan e Lahore Aur Qasim Ali Shah Foundation
جشنِ لاہور اور قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن
کچھ شہر اپنی بلند و بالا عمارتوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنے تاریخی ورثے، خوبصورت باغات اور شاندار طرزِ تعمیر کی بدولت شہرت رکھتے ہیں، لیکن کچھ شہر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اصل پہچان ان کی تہذیب، علم، ادب اور فکر و دانش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ لاہور بھی ایسا ہی ایک شہر ہے، جس کی گلیوں میں تاریخ سانس لیتی ہے، جس کے در و دیوار داستانیں سناتے ہیں اور جس کی فضا میں صدیوں سے کتابوں، شاعری اور علم و ادب کی خوشبو رچی بسی ہے۔ لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ادبی روایت کا نام ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں الفاظ نے تہذیب کا لباس پہنا، شاعری نے احساسات کو زبان دی، قلم نے معاشرتی رویّوں کو موضوع بنایا اور کتاب نے نسلوں کی فکری تربیت کی۔
یونیسکو نے 2019ء میں لاہور کو اپنے تخلیقی شہروں کے نیٹ ورک (UNESCO Creative Cities Network) میں شامل کرتے ہوئے اسے City of Literature یعنی شہرِ ادب کا اعزاز عطا کیا۔ یہ اعزاز لاہور کی صدیوں پر محیط ادبی تاریخ، کتاب دوستی کی روایت، اشاعتی اداروں، لائبریریوں، ادبی تقریبات اور تخلیقی سرگرمیوں کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہے۔ ایک ماہ قبل قاسم علی شاہ صاحب کو یونیسکو سٹی آف لٹریچر لاہور کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔ اسی سلسلے میں قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں 30 اکتوبر 2026ء کو "جشنِ لاہور" کے عنوان سے شہرِ ادب کے حوالے سے شاندار تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقریبات میں جہاں شاعروں، ادیبوں، میڈیا انفلوئنسرز اور مصنفین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا، وہیں موسیقی کے ذریعے بھی اس شہر........
