Imandari Ka Sila
دنیا میں کچھ ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں جو انسانیت پر یقین کو مزید مضبوط کر دیتی ہیں۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی شخص کی ہے جس کے پاس دولت تھی نہ اپنا گھر تھا اور نہ ہی کوئی بڑی حیثیت، لیکن اس کے پاس ایک ایسی دولت ضرور تھی جو کروڑوں ڈالر سے زیادہ قیمتی تھی۔ یہ کہانی 2013 میں امریکہ کے شہر نیویارک کے ایک 55 سالہ شخص بلی رے ہیرس (Billy Ray Harris) کی ہے، جو ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا۔ زندگی نے اس کے حصے میں غربت، تنہائی اور مشکلات لکھی تھیں، لیکن اس کے دل میں سچائی اور دیانت داری کی روشنی ابھی باقی تھی۔ ایک دن ایک نوجوان خاتون، سارا ڈارلنگ (Sarah Darling)، خوشی خوشی اسی اسٹیشن سے گزر رہی تھی، اس کی خوشی کی وجہ بھی خاص تھی۔
صرف دو دن پہلے اس کی منگنی ہوئی تھی اور اس کے منگیتر نے اسے ایک نہایت قیمتی ہیرے کی انگوٹھی تحفے میں دی تھی۔ سارا اس انگوٹھی کو بار بار دیکھتی اور اسے اپنی زندگی کی خوشیوں کی علامت سمجھتی تھی۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ انگوٹھی ان کی انگلی میں ذرا ڈھیلی تھی۔ جب سارا اسٹیشن سے گزر رہی تھی تو اس نے بلی رے ہیرس کی آواز سنی جو راہگیروں سے مدد کی درخواست کر رہا تھا۔ سارا کا دل پسیج گیا۔ وہ اس کے قریب آئی اور اپنی جیب میں موجود تمام سکے نکال کر اس کے ڈبے میں ڈال دیے۔ فقیر نے دل سے اسے دعائیں دیں اور سارا مسکراتے ہوئے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ سکے ڈالتے وقت اس کی قیمتی ہیرے کی انگوٹھی بھی غلطی سے فقیر کے ڈبے میں گر گئی ہے۔ نہ سارا کو اس کا احساس ہوا اور نہ ہی اس فقیر کو۔
کچھ دیر بعد جب اس فقیر نے اپنے ڈبے میں نظر ڈالی تو اسے ایک چمکتی ہوئی ہیرے کی انگوٹھی دکھائی دی۔ پہلے تو وہ حیران رہ گیا، پھر اس کے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اسے لگا شاید کسی مہربان شخص نے اسے یہ قیمتی تحفہ دیا ہے۔ وہ انگوٹھی لے کر ایک سنار کے پاس پہنچ........
