menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Safarnama e Hijaz o Arab, Mazi o Haal Ki Tareekh Ka Darwaza

20 0
13.05.2026

سفرنامہ حجاز و عرب، ماضی و حال کی تاریخ کا دروازہ

مَیں پہلی بار مکہ میں داخل ہوا تب 1994 کا زمانہ تھا اور میری عمر اکیس سال تھی۔ اُس وقت مکہ شہر چھوٹا تھا، نائی بہت تھے۔ بھارت اور پاکستان میں جسے ویزہ میسر آتا وہ نائی بن جاتا بلکہ اکثریت اُن حاجیوں کی تھی جو ہر سال حاجی کے روپ میں جاتے۔ ڈیڑھ ماہ نائی رہتے، سال بھر کی روٹیاں سیدھی کرتے اور پاکستان میں الحاج بن کر آڑھت چلاتے۔ اگلے سال پھر حج۔ مَیں نے ایسے بیسیوں نائی دیکھے جو سر کے بال اور حاجی کے کان، دونوں چیزیں ایک ہی وار میں اُڑا دیتے۔

مَیں یہاں عمرے کے ویزے سے داخل ہوا تھا۔ اصل میں مجھے جدہ میں ایک سُنارے کے پاس جانا تھا اور اُنھی کے ساتھ زر گری کرنی تھی۔ مَیں نے کام تو کرنا تھا لیکن اصل میرا مقصد حجاز کی زیارتیں تھیں۔ جب مَیں جدہ میں اُترا، رات کی دنیا تھی۔ اجنبی شہر تھا۔ میرے پاس احرام نہیں تھا اور عمرہ کی بابت علم کم تھا۔ دل میں فیصلہ کیا پہلے جدہ چلوں، وہاں ایک رات اپنے سُنارے دوست کے ہاں رہوں۔ اگلے دن احرام اور عمرہ کی معلومات پلے باندھ کر مکہ روانہ ہو جائوں گا۔ پہلے عمرہ کروں گا، پھر مدینہ جائوں گا، اُس کے بعد جدہ میں اُن کی دکانوں پر کام کرنے بیٹھوں گا۔

مکہ میرے لیے اُن اساطیری دنیائوں سے کم نہیں تھا جسے دیکھنا اور اُس کی گلیوں میں پھرنا انسانی خواب ہوتا ہے جو حقیقت میں نہ بدل سکے۔ حجاز کے لیے گھر سے نکلتے ہوئے اجنبی شہروں کا سفر نہیں تھا، یہ اُن زمانوں کا سفر تھا جو چودہ سو سال وآپس لے جانے والے تھے۔

مَیں جیسے ہی ایمیگریشن ہال سے باہر نکلا عرب کے چند لونڈوں نے وہیں روک لیا اور پاسپورٹ قبضے میں لے کر کہا، دیکھو یہاں سے تمھیں گاڑی سیدھی مکہ لے کر جائے گی۔ جدہ شہر میں نہیں جا سکتے تمھیں پاسپورٹ مکہ میں ملے گا۔

میرے ساتھ کئی دوسرے مسافروں کے پاسپورٹ بھی اُن کی گرفت میں تھے۔ مجھے مکہ جانے میں قباحت نہیں تھی بلکہ اُسی کا شوق یہاں لایا تھا لیکن مَیں اُن دِنوں شرعی مسلمان تھا۔ احرام کے بغیر صحنِ حرم میں داخل نہ ہو سکتا تھا اور احرام پاس نہیں تھا۔ دماغ میں ہرگز یہ نہ آیا کہ ایئر پورٹ سے مل سکتا ہے اور حِل کے کسی مقام پر پہنا جا سکتا ہے؟

مَیں نے سُن رکھا تھا سعودی عرب میں جانے کے بعد اگر پاسپورٹ آپ سے لے لیا جائے تو سمجھ لو آپ اندھے بھی ہیں اور اپاہج بھی۔ اِس کے بغیر کہیں آنا جانا ممکن نہیں، کام ملنا تو دُور کی بات۔ آخر ایک آدمی نظر آیا، اُس نے مجھ سے میری مشکل پوچھی۔ مَیں نے اپنی رام کہانی سنائی۔ وہ مسکرا کر بولا، میاں لڑکے ہم اہلِ قبلہ ہیں اور یہ اہلِ کعبہ ہیں، ہمارے اِن کے مزاج ملتے ہیں۔ جیب سے پچاس ریال نکال کر شُرطے کی مُٹھی میں دو اور پاسپورٹ لے لو۔ مَیں نے کہا واللہ کیا جادوگر آدمی ہو۔ اُسی وقت یہ فعل انجام دیا اور پاسپورٹ حاصل کیا۔ آپ یقین کریں سرزمینِ حجاز میں یہی میری پہلی........

© Daily Urdu (Blogs)