menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maafi Nahi, Tabdeeli

25 0
24.10.2026

بعض رشتے ایک لمحے میں نہیں ٹوٹتے، آہستہ آہستہ ٹوٹتے ہیں۔ ہر تلخ جملے کے بعد ایک معذرت، ہر بدتمیزی کے بعد ایک پیار بھری گفتگو، ہر زیادتی کے بعد چند اچھے دن اور پھر وہی پرانی روش۔ بظاہر رشتہ قائم رہتا ہے، مگر اندر کہیں احترام، اعتماد اور اطمینان کی بنیادیں کمزور ہوتی رہتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر معافی کو اصلاح سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ معافی صرف اس وقت معنی رکھتی ہے جب اس کے بعد رویہ بدلنے کی سنجیدہ کوشش بھی نظر آئے۔

ہماری معاشرتی تربیت نے ہمیں برداشت کا درس تو بہت دیا ہے، مگر حدود قائم کرنے کا ہنر کم سکھایا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گھر کے معاملات گھر میں رہنے چاہییں، اپنوں کی غلطیاں نظرانداز کر دینی چاہییں، غصہ انسان سے ہو ہی جاتا ہے، آخر وہ اپنا ہی تو ہے۔ یوں محبت کے نام پر ایسے رویوں کو بھی تحفظ مل جاتا ہے جو کسی اجنبی سے برداشت کرنا تو درکنار، ہم شاید اس کے خلاف آواز اٹھانے میں بھی دیر نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ رشتہ اپنی جگہ محترم ہے یا اس رشتے میں انسان کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے؟

کسی شخص کا کبھی کبھار غصے میں آ جانا انسانی کمزوری ہو سکتی ہے، لیکن اگر غصہ مستقل طور پر دوسروں کو ذلیل کرنے، دھمکانے، گالیاں دینے یا ذہنی اذیت پہنچانے کا ذریعہ بن جائے تو اسے محض مزاج کہنا حقیقت سے فرار ہے۔ ایک شخص اچھا باپ، اچھا شوہر، اچھی بیوی، اچھا بھائی یا اچھا دوست ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ تعارف اسے اپنے نامناسب رویے سے بری........

© Daily Urdu (Blogs)