menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chiragh Aandhiyon Ki Zad Mein

15 0
yesterday

چراغ آندھیوں کی زد میں

پریشانیوں، مسائل، الجھنوں نے انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ تمام سہولیات کے ہوتے انسان اضطراب سے دوچار ہے۔ امن ختم ہوتا جا رہا۔ سب سے بڑا مسئلہ ہمارا اخلاقی زوال ہے جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے اندر سے احساس، انسانی ہمدردی، مروت، اخلاقی اقدار رخصت ہو رہی ہیں، ہم بجائے اس کے حل کے مزید مشکلات میں پھنستے جارہے ہیں۔ اخلاقیات کا ختم ہونا معاشرے کو بے وقت کرتا ہے۔ ہم اپنے لئے تو سب سوچ رہے مگر دوسروں کے لئے کچھ بھی نہیں سوچتے۔

جاپان کے ایک نامور یونیورسٹی پروفیسر سے کسی نے پوچھا: "اگر کسی معاشرے سے اخلاقیات ختم ہو جائیں تو کیا ہوتا ہے؟" پروفیسر نے مسکرا کر جواب دیا: "ریاستیں معاشی دیوالیہ پن سے بچ سکتی ہیں، بم دھماکوں کے بعد دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہیں، لیکن جب کسی قوم کا اخلاق دیوالیہ ہو جائے، تو اس کا جغرافیہ بھی نقشے پر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا"۔ آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، تو ہمیں جاپانی پروفیسر کی وہ بات روح تک کانپنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہم بحیثیت قوم ایک ایسے موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہماری معیشت سے زیادہ ہمارا سماجی اور اخلاقی وجود وینٹی لیٹر پر ہے۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "سوچنا" چھوڑ دیا ہے۔ ہم ایک زندہ معاشرے کے بجائے ایک بپھرے ہوئے ہجوم میں تبدیل ہو........

© Daily Urdu (Blogs)